Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
76 - 414
وَمَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًاۢ ﴿157﴾ۙبَلۡ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیۡہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿158﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔                    (پ6،النساء:157،158)

اور اس سے اوپر والی آیت میں ہے کہ:۔
وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمْ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔ انہوں نے نہ اسے قتل کیااور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اس کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا۔ (پ6،النساء:157)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھوں مقتول نہیں ہوئے اور اللہ نے آپ کو آسمانوں پر اٹھا لیا، جو یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل ہو گئے اور سولی پر چڑھائے گئے جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے تو وہ شخص کافر ہے کیونکہ قرآن مجید میں صاف صاف مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ مقتول ہوئے نہ سولی پر لٹکائے گئے۔
(۱۸)عیسائیوں کا مباہلہ سے فرار
نجران (یمن)کے نصرانیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ یہ چودہ آدمیوں کی جماعت تھی جو سب کے سب نجران کے اشراف تھے اور اس وفد کی قیادت کرنے والے تین شخص تھے :۔

(۱) ابو حارثہ بن علقمہ جو عیسائیوں کا پوپ اعظم تھا۔

(۲) اُہیب جو ان لوگوں کا سردار اعظم تھا ۔ 

(۳) عبدالمسیح جو سردار اعظم کا نائب تھا اور ''عاقب''کہلاتا تھا۔ 

    یہ سب نمائندے نہایت قیمتی اور نفیس لباس پہن کر عصر کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور اپنے قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی نماز ادا کی۔ پھر ابو حارثہ اور ایک دوسرا شخص دونوں
Flag Counter