بے شک اللہ تعالیٰ نے مجھے سورۃ فاتحہ کے معانی پر آگاہ فرمایا تو ان میں سے ایک لاکھ چالیس ہزار نو سو ننانوے علوم مجھ پر منکشف ہوئے۔
(الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)
اسی طرح امام شعرانی علیہ الرحمۃ اپنی کتاب میزان میں تحریر فرماتے ہیں کہ:
قَدِ اسْتَخْرَجَ اَخِیْ اَفْضَلُ الدِّیْنِ مِنْ سُوْرَۃِ الْفَاتِحَۃِ مَائَتَیْ اَلْفِ عِلْمٍ وَّ سَبْعَۃً وَّاَرْبَعِیْنَ اَلْفِ عِلْمٍ وَّتِسْعَ مِائَۃٍ وَتِسْعَۃً وَّ تِسْعُوْنَ عِلْمًا
میرے بھائی افضل الدین نے سورۃ فاتحہ سے دو لاکھ سینتالیس ہزار نو سو ننانوے علوم نکالے ہیں۔
(الدولۃ المکیۃ، النظر الخامس فی دلائل المدعی من الاحادیث والاقوال والایات، ص ۷۹)
ان روایتوں سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ قرآن مجید اگرچہ ظاہر میں تیس پاروں کا مجموعہ ہے لیکن اس کا باطن کروڑوں بلکہ اربوں علوم و معارف کا ایسا خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوسکتا کسی عارف باللہ کا مشہور شعر ہے کہ!
جَمِیْعُ الْعِلْمِ فِی الْقُرْاٰنِ لٰکِنْ تَقَاصَرَ عَنْہُ اَفْہَامُ الرِّجَالِ
یعنی تمام علوم قرآن میں موجود ہیں لیکن لوگوں کی عقلیں ان کے سمجھنے سے قاصر و کوتاہ ہیں۔ الحاصل قرآن مجید میں صرف علوم و معارف ہی کا بیان نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید میں پوری کائنات اور سارے عالم کی ہر ہر چیز کا واضح اور روشن تفصیلی بیان ہے یعنی آسمان کے ایک