Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
411 - 414
ایک تارے، سمندر کے ایک ایک قطرے ،سبزہ ہائے زمین کے ایک ایک تنکے، ریگستان کے ایک ایک ذرے، درختوں کے ایک ایک پتے، عرش و کرسی کے ایک ایک گوشے، عالم کائنات کے ایک ایک کونے، ماضی کا ہر ہر واقعہ، حال کا ہر ہر معاملہ ،مستقبل کا ہر ہر حادثہ قرآن مجید میں نہایت وضاحت کے ساتھ تفصیلی بیان کیا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ!
فَرَّطْنَا فِی الۡکِتٰبِ مِنۡ شَیۡءٍ
    ترجمہ کنزالایمان:۔ ہم نے اس کتاب میں کچھ اُٹھا نہ رکھا۔(پ7،الانعام:38)

لیکن واضح رہے کہ قرآن کی یہ اعجازی شان ہمارے تمہارے اور عام لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ قرآن کی اس اعجازی شان کا کامل ظہور تو صرف حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مخصوص ہے اور صرف آپ ہی کا یہ معجزہ ہے کہ آپ نے قرآن مجید کے تمام مضامین و معانی کو تفصیلی طور پر جان لیا اور پورا قرآن نازل ہوجانے کے بعد کائنات عالم کی کوئی شے، ماضی و حال اور مستقبل کا کوئی واقعہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے پوشیدہ نہیں رہا اور آپ نے ہر غیب و شہادت کو تفصیلی طور پر جان لیا کیونکہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔
 وَ نَزَّلْنَا عَلَیۡکَ الْکِتٰبَ تِبْیَانًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ۔
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور ہم نے تم پر یہ قرآن اُتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے۔(پ14،النحل:89)

پھر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے صدقے میں بعض اولیاء کرام اور علماء عظام کو بھی بقدر ظرف ان کے باطنی علوم و معارف سے حصہ ملا ہے جن میں سے کچھ کتابوں کے لاکھوں صفحات پر ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں اور کچھ سینوں کے صندوق اور دلوں کی تجوریوں میں اب تک مقفل ہی رہ گئے ہیں جو آئندہ ان شاء اللہ تعالیٰ قیامت تک صفحات قرطاس پر جلوہ ریز ہوتے رہیں گے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس غیبی خبر
وَلاَ تَنْقَضِیْ عَجَآئِبُہٗ
کا وقتاً فوقتاً ظہور ہوتا رہے گا اور امت مسلمہ ان کے فیوض و برکات سے مستفیض و مالا مال ہوتی ہی رہے گی۔ بہرحال یہ یقین و
Flag Counter