| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
عظمت و کمال کے ساتھ موصوف ہے۔ مثل و نظیر و شبیہ سے پاک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ وہ کچھ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، نہ کسی کا محتاج ہے بلکہ سب اس کے محتاج ہیں وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ وہ قدیم ہے اور پیدا ہونا حادث کی شان ہے اس لئے نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ کسی کا باپ ہے نہ اس کا کوئی مجانس ہے اور نہ اس کا عدیل و مثیل ہے۔ اس سورۃ مبارکہ کی فضیلتوں کے متعلق بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں اسکو تہائی قرآن کے برابر بتایا گیا ہے یعنی اگر تین مرتبہ اس سورۃ کو پڑھا جائے تو پورے قرآن کی تلاوت کا ثواب ملے گا۔ ایک شخص نے حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ مجھے اس سورۃ سے محبت ہے تو آپ نے فرمایا کہ اس کی محبت تجھے جنت میں داخل کر دے گی۔
(تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۸۶، پ۳۰، اخلاص:۱)
(۷۱)علوم و معارف کا نہ ختم ہونے والا خزانہ
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی وہ جلیل القدر اور عظیم الشان کتاب ہے، جس میں ایک طرف حلال و حرام کے احکام ،عبرتوں اور نصیحتوں کے اقوال، انبیائے کرام اور گزشتہ امتوں کے واقعات و احوال، جنت و دوزخ کے حالات مذکور ہیں اور دوسری طرف اس کے باطن کی گہرائیوں میں علوم و معارف کے خزانوں کے بے شمار ایسے سمندر موجیں ماررہے ہیں جو قیامت تک کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی اس عظیم الشان جامعیت کا بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
لاَ یَشْبَعُ مِنْہُ الْعُلَمَآءُ وَلاَ یَخْلَقُ عَنْ کَثْرَۃِ الرَّدِّ وَلاَ یَنْقَضِیْ عَجَائِبُہٗ
قرآنی مضامین کا احاطہ کر کے کبھی علماء آسودہ نہیں ہوں گے اور بار بار پڑھنے سے قرآن