Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
401 - 414
اس لئے بعض علماء کرام نے فرمایا کہ شب ِ قدر کی کوئی رات معین نہیں ہے لہٰذا ان پانچوں راتوں میں شب ِ قدر کو تلاش کرنا چاہے۔

مگر حضرت ابی بن کعب و حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور دوسرے علماء کرام کا قول یہ ہے کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔
(تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۰، پ۳۰، القد ر)
اور بعض علماء کرام نے بطور اشارہ اس کی دلیل یہ بھی پیش کی ہے کہ ''لیلۃ القدر'' میں نو حروف ہیں اور ''لیلۃ القدر'' کا لفظ اس سورہ میں تین جگہ آیا ہے اور نو کو تین سے ضرب دینے سے ستائیس ہوتے ہیں لہٰذا معلوم ہوا کہ شب ِ قدر رمضان کی ستائیسویں رات ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
 (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۰، پ۳۰، القدر)
شب قدر کی نماز اور دعائیں:روایت ہے کہ جو شب ِ قدر میں اخلاصِ نیت سے نوافل پڑھے گا اس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف ہوجائیں گے۔
           			(تفسیر روح البیان،ج۱۰، ص ۸۱۔۴۸۰، پ۳۰،القدر:۳)
 (۱)شب ِ قدر میں چار رکعت نماز نفل اس ترکیب سے پڑھے کہ ہر رکعت میں ''الحمد'' کے بعدسورہ انا انزلناہ تین مرتبہ اور قل ھو اللہ پچاس مرتبہ پڑھے پھر سلام کے بعد سجدہ میں جا کر ایک مرتبہ
سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلَآ اِلٰہَ اِلاَّ اللّہُ وَاللہُ اَکْبَر
پڑھے۔ پھر سجدے سے سر اٹھا کر جو دعا مانگے ان شاء اللہ تعالیٰ مقبول ہو گی۔
 (فضائل الشہور والایام)
 (۲)حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر مجھے شب ِ قدر مل جائے تو میں کون سی دعا پڑھوں؟ تو ارشاد فرمایا کہ تم یہ دعا پڑھو۔
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ
 (سنن ابن ماجہ،کتاب الدعاء بالعفو و العافیۃ، ج۴،ص۲۷۳،رقم ۳۸۵۰ )
 (۳)ایک روایت میں ہے کہ جو شخص رات میں یہ دعا تین مرتبہ پڑھ لے گا تو اس نے گویا
Flag Counter