Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
400 - 414
اللہ! آپ کے امتیوں کی عمریں تو بہت کم ہیں۔ پھر بھلا ہم لوگ اتنی عبادت کیونکر کرسکیں گے؟ صحابہ کے اس افسوس پر آپ کچھ فکرمند ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ سورہ نازل فرمائی کہ اے محبوب! ہم نے آپ کی امت کو ایک رات ایسی عطا کی ہے کہ وہ ایک ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
         		(تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۳۹۹، پ۳۰، القدر:۳)
مومنوں کو ملائکہ کی سلامی:۔روایت ہے کہ شب ِ قدر میں سدرۃ المنتہیٰ کے فرشتوں کی فوج حضرت جبرئیل علیہ السلام کی سرداری میں زمین پر اترتی ہے اور ان کے ساتھ چار جھنڈے ہوتے ہیں۔ ایک جھنڈا بیت المقدس کی چھت پر۔ اور ایک جھنڈا کعبہ معظمہ کی چھت پر۔ اور ایک جھنڈا طور سیناء پر لہراتے ہیں اور پھر یہ فرشتے مسلمانوں کے گھروں میں تشریف لے جا کر ہر اس مومن مرد و عورت کو سلام کرتے ہیں جو عبادت میں مشغول ہوں۔ مگر جن گھروں میں بت یا تصویر یا کتا ہو یا جن مکانوں میں شرابی یا خنزیر کھانے والا یا غسل جنابت نہ کرنے والا، یا بلاوجہ شرعی اپنی رشتہ داری کو کاٹ دینے والا رہتا ہو، ان گھروں میں یہ فرشتے داخل نہیں ہوتے۔
 (تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۱، پ۳۰، القدر:۴)
     ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ ان فرشتوں کی تعداد روئے زمین کی کنکریوں سے بھی زیادہ ہوتی ہے اور یہ سب سلام و رحمت لے کر نازل ہوتے ہیں۔
             			(تفسیر صاوی،ج۶، ص ۲۴۰۱، پ۳۰، القدر:۴)
شب ِ قدر کون سی رات ہے؟حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شب ِ قدر کو رمضان کے آخری عشرہ کی طاق راتوں یعنی اکیسویں ، تئیسویں ، پچیسویں، ستائیسویں اور انتیسویں راتوں میں تلاش کرو۔
 (بخاری شریف، کتاب الصوم، باب تحری لیلۃ القدر، ج۱،ص ۲۷۰، مسلم شریف، کتاب الصیام، باب فضل لیلۃ القد ر، ص ۳۶۹)
Flag Counter