قیامت کے دن بندوں کی نیکی بدی کے حساب کے وقت جہاں بہت سے گواہ ہوں گے۔ وہاں زمین بھی گواہ بن کر شہادت دے گی۔ چنانچہ حدیث شریف میں ہے کہ ہر مرد و عورت نے زمین پر جو کچھ اچھا یا برا عمل کیا ہے زمین اس کی گواہی دے گی کہے گی کہ فلاں روز یہ کام کیا اور فلاں روز یہ کام کیا۔
(تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۹، پ۳۰، الزلزال:۴)
زمین پر جو کچھ اچھے یا برے کام لوگوں نے کئے ہیں۔ان سب کو زمین نے یاد رکھا ہے اور قیامت کے دن وہ ساری خبروں کو علی الاعلان بیان کرے گی جس کو سب لوگ سنیں گے۔ اس مضمون کو خداوند (عزوجل)نے قرآن مجید میں ان لفظوں کے ساتھ ارشاد فرمایا ہے:
اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَہَا ۙ﴿1﴾وَ اَخْرَجَتِ الْاَرْضُ اَثْقَالَہَا ۙ﴿2﴾وَ قَالَ الْاِنۡسَانُ مَا لَہَا ۚ﴿3﴾یَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَہَا ﴿ۙ4﴾بِاَنَّ رَبَّکَ اَوْحٰی لَہَا ؕ﴿5﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔جب زمین تھر تھرا دی جائے جیسا اس کا تھرتھرانا ٹھہرا ہے اور زمین اپنے بوجھ باہر پھینک دے اورآدمی کہے اسے کیا ہوا اس دن وہ اپنی خبریں بتائے گی اس لئے کہ تمہارے رب نے اسے حکم بھیجا۔(پ30،الزلزال:1۔5)
درسِ ہدایت:۔قیامت کے دن بندوں کے اچھے برے اعمال کے بہت سے گواہ ہوں گے۔ ہر انسان کے کندھوں پر جو فرشتے نامہ اعمال لکھ رہے ہیں وہ مستقل گواہ ہیں۔ پھر ان کے علاوہ انسان کے اعضاء گواہی دیں گے یعنی انسان کے ہاتھ پاؤں، آنکھ کان وغیرہ وغیرہ جن