اِنَّاۤ اَنۡزَلْنٰہُ فِیۡ لَیۡلَۃِ الْقَدْرِ﴿1﴾ۚۖوَ مَاۤ اَدْرٰىکَ مَا لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ؕ﴿2﴾لَیۡلَۃُ الْقَدْرِ ۬ۙ خَیۡرٌ مِّنْ اَلْفِ شَہۡرٍ ؕ﴿ؔ3﴾تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِکَۃُ وَ الرُّوۡحُ فِیۡہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمۡ ۚ مِنۡ کُلِّ اَمْرٍ ۙ﴿ۛ4﴾سَلٰمٌ ۟ۛ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ ٪﴿5﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔بے شک ہم نے اسے شب قدر میں اُتارا اور تم نے کیا جانا کیا شب قدر ، شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر اس میں فرشتے اور جبریل اُترتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ہر کام کے لئے وہ سلامتی ہے صبح چمکنے تک۔(پ30،القد ر:1۔5)
یعنی شب ِ قدر وہ قدر و منزلت والی رات ہے کہ اس رات میں پورا قرآن مجید لوحِ محفوظ سے آسمان دنیا پر نازل کیا گیا اور اس ایک رات کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر افضل ہے۔ اس رات میں حضرت جبرئیل علیہ السلام ملائکہ کے ایک لشکر کے ساتھ آسمان سے زمین پر اترتے ہیں۔ یہ رات زمین و آسمان اور سارے جہان کے لئے سلامتی کا نشان ہے۔ غروبِ آفتاب سے طلوع فجر تک اس کے انوار و برکات کی تجلیاں برابر جلوہ افروز رہتی ہیں۔
روایت ہے کہ ایک دن حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بنی اسرائیل کے ایک عابد کا قصہ بیان فرمایا کہ اس نے ایک ہزار مہینے تک لگاتار عبادت اور جہاد کیا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یارسول