Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
398 - 414
سواروں اور پیدلوں سے اس میدان کو بھردوں گا۔ اس کی اس دھمکی کے جواب میں سورہ''علق'' یعنی سورہ اقراء کی یہ آیات نازل ہوئیں۔
 (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۷، پ۳۰، علق، رکوع :۱)
خداوند قدوس نے ارشاد فرمایا۔
کَلَّا لَئِنۡ لَّمْ یَنۡتَہِ ۬ۙ  لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ ﴿ۙ15﴾     نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ ﴿ۚ16﴾      فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ ﴿ۙ17﴾ سَنَدْعُ  الزَّبَانِیَۃَ ﴿ۙ18﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ہاں ہاں اگر باز نہ آیا توہم ضرور پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار اب پکارے اپنی مجلس کو ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں۔ (پ30،العلق:15۔18)

حدیث شریف میں ہے کہ اگر ابوجہل اپنی مجلس والوں کو بلاتا تو فرشتے اس کو بالاعلان گرفتار کرلیتے اور وہ ''زبانیہ'' کی گرفت سے بچ نہیں سکتا تھا۔
        (تفسیر خزائن العرفان،ص۱۰۷۷، پ۳۰، علق: ۱۸)
درسِ ہدایت:۔ابوجہل جب تک زندہ رہا۔ ہمیشہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی دشمنی و ایذاء رسانی پر کمربستہ رہا۔ اور دوسروں کو بھی اس پر اُکساتا رہا۔ آخر قہر خداوندی میں گرفتار ہوا کہ جنگ ِ بدر کے دن دو لڑکوں کے ہاتھ سے ذلت کے ساتھ قتل ہوا اور اس کی لاش بے گوروکفن بدر کے گڑھے میں پھینک دی گئی۔ اس طرح تمام دشمنانِ رسول طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا ہو کر ہلاک و برباد ہو گئے۔
سبحان اللہ۔
مٹ گئے مٹتے ہیں مٹ جائیں گے اعداتیرے

نہ  مٹا  ہے  نہ   مٹے  گا   کبھی  چرچا  تیرا

                  	 تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے

 			 جب   بڑھائے   تجھے   اللہ  تعالی ٰ تیرا

عقل ہوتی تو خدا سے نہ لڑائی لیتے
Flag Counter