ابوجہل نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کعبہ میں نماز پڑھنے سے منع کیا تھا اور وہ علانیہ کہا کرتا تھا کہ اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کو نماز پڑھتے دیکھا تو اپنے پاؤں سے ان کی گردن کچل دوں گا اور ان کا چہرہ خاک میں ملا دوں گا۔ چنانچہ وہ اپنے اس فاسد ارادہ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نماز پڑھتے دیکھ کر آپ کے قریب آیا مگر اچانک الٹے پاؤں بھاگا۔ ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتاہے۔چہرے کا رنگ اُڑ گیا، اور بدن کی بوٹی بوٹی کانپنے لگی۔ اس کے ساتھیوں نے پوچھا کہ تمہارا کیا حال ہے؟ تو کہنے لگا کہ میرے اور محمد (علیہ الصلوٰۃ والسلام)کے درمیان ایک خندق ہے جس میں آگ بھری ہوئی ہے اور کچھ دہشت ناک پرند بازو پھیلائے ہوئے ہیں۔ اس سے میں اس قدر خوفزدہ ہو گیا کہ آگے نہیں بڑھ سکا اور ہانپتے کانپتے کسی طرح جان بچا کر بھاگا۔
نماز کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر ابوجہل میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا ایک ایک عضو جدا کردیتے۔
اس کے بعد بھی ابوجہل اپنی خباثت سے باز نہیں آیا اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کرنے لگا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سختی سے جھڑک دیا تو ابوجہل نے غصہ میں بھر کر کہا کہ آپ مجھے جھڑکتے ہیں؟ حالانکہ آپ کو معلوم ہے کہ مکہ میں مجھ سے زیادہ جتھے والا اور مجھ سے بڑی مجلس والا کوئی نہیں ہے۔ خدا کی قسم! میں آپ کے مقابلہ میں