Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
396 - 414
حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے بت پرستی کے جس درخت کی جڑوں کو کاٹ دیا تھا۔ آج کل کے یہ جاہل بدعتی پیر اور ان کے توہم پرست مریدین بت پرستی کی ان جڑوں کو سینچ سینچ کر پھر شرک و بت پرستی کے درخت کو ہرا بھرا اور تناور بنا رہے ہیں۔ آج کل کے جاہل اور دنیا دار پیروں سے تو کیا امید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس کے خلاف زبان کھولیں گے۔ مگر ہاں حق پرست اور حق گو علماء اہل سنت سے بہت کچھ امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ ان کے خلافِ شرع اعمال و افعال کے خلاف ان شاء اللہ تعالیٰ ضرور علم جہاد بلند کریں گے کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہر اس موقع پر جب کہ اسلام کی کشتی گمراہیوں کے بھنور میں ڈگمگانے لگی ہے تو علماء اہل سنت ہی نے اپنی جان پر کھیل کر کشتی اسلام کی ناخدائی کی ہے۔ اور آخر طوفانوں کا رخ موڑ کر اسلام کی کشتی کو غرقاب ہونے سے بچا لیا ہے۔

مگر اس زمانے میں اس کا کیا علاج ہے؟ کہ ان بے شرع پیروں اور مکار باباؤں نے چند روپیوں کے بدلے کچھ مولویوں کو خرید لیا ہے اور یہ مولوی صاحبان ان بے شرع پیروں اور مکار باباؤں کو ''مجذوب'' یا فرقہ ''ملامتیہ'' کا خوبصورت لبادہ اوڑھا کر خوب خوب ان کے کشف و کرامت کا ڈنکا بجا رہے ہیں۔ اور ان باباؤں کے نذرانے سے اپنی مٹھی گرم کررہے ہیں اور اگر کوئی حق گو عالم ان لوگوں کے خلاف کوئی کلمہ کہہ دے تو بابا لوگ اپنے داداؤں کو بلا کر اس عالم کی مرمت کرادیں اور ان کے زرخرید مولوی اپنی مخالفانہ تقریروں کی بوچھاڑ سے بے چارے حق گو عالم کی زندگی دوبھر کردیں۔ میں نے بارہا علماء اہلسنت کو پکارا اور للکارا کہ لِلّٰہ اٹھو اور حق کے لئے کمربستہ ہو کر کم از کم اتنا تو کردو کہ متفقہ فتویٰ کے ذریعے یہ اعلان کردو کہ یہ داڑھی منڈے ،اول فول بکنے والے، گَنجیڑی، تارک صوم و صلوٰۃ، بے شرع بابا لوگ فاسق معلن ہیں۔ جو خود گمراہ اور مسلمانوں کے لئے گمراہ کن ہیں اور ان لوگوں کو ولایت و کرامت سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں۔ مگر افسوس کہ ایک مولوی بھی مجھ عاجز کی آواز پر لبیک کہنے والا نہیں ملا۔