حضرت نوح علیہ السلام ساڑھے نو سو برس تک ان لوگوں کو وعظ سنا سنا کر اس بت پرستی سے منع فرماتے رہے۔ بالآخر طوفان میں غرق ہو کر سب ہلاک ہو گئے۔ مگر شیطان اپنی اس چال سے باز نہیں آیا اور ہر دور میں اپنے وسوسوں کے جادو سے لوگوں کو اس طور پر بت پرستی سکھاتا رہا کہ لوگ اپنے صالحین کی تصویروں اور مجسمے بنا کر پہلے تو کچھ دنوں تک ان کی زیارت کرتے رہے اور ان کے دیدار سے اپنا دل بہلاتے رہے۔ پھر رفتہ رفتہ ان تصویروں اور مجسموں کی عبادت کرنے لگے۔ اس طرح شرک و بت پرستی کی لعنت میں د نیا گرفتار ہو گئی اور خدا پرستی اور توحید خالص کا چراغ بجھنے لگا جس کو روشن کرنے کے لئے انبیاء سابقین یکے بعد دیگرے برابر مبعوث ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ ہمارے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ کے لئے بت پرستی کی جڑ اس طرح کاٹ دی کہ آپ نے تصویروں اور مجسموں کا بنانا ہی حرام فرما دیا اور حکم صادر فرمادیا کہ تصاویر اور مجسمے ہرگز ہرگز کوئی شخص کسی آدمی تو آدمی کسی جاندار کے بھی نہ بنائے اور جو پہلے سے بن چکے ہیں ان کو جہاں بھی دیکھو فوراً مٹا کر اور توڑ پھوڑ کر تباہ و برباد کردو تاکہ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری۔ درسِ ہدایت:۔آج کل میں نے دیکھا ہے کہ بہت سے پیروں کے مریدین نے اپنے پیروں کی تصویروں کو چوکھٹوں میں بند کر کے اپنے گھروں میں رکھ چھوڑا ہے اور خاص خاص موقعوں پر اس کی زیارت کرتے کراتے رہتے ہیں بلکہ بعض تو ان تصویروں پر پھول مالائیں چڑھا کر اگربتی بھی سلگایا کرتے ہیں اور اس کے دھوئیں کو اپنے بدن پر ملا کرتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی ان خرافات سے باز نہ رہے اور علماء اہل سنت نے اس کے خلاف علم مخالفت نہ بلند کیا تو اندیشہ ہے کہ شیطان کا پرانا حربہ اور اس کی شیطانی چال کا جادو مسلمانوں پر چل جائے گا اور آنے والی نسلیں ان تصویروں کی عبادت کرنے لگیں گی۔ خوب کان کھول کر سن لو کہ: