Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
392 - 414
دیناروں کو سمندر میں ڈال دے۔ مجھے مل جائیں گے۔

چنانچہ کشتی والے نے دس ہزار دیناروں کو سمندر میں ڈال دیا تو اس غیبی آواز والے نے کہا کہ وہ وظیفہ وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ آخر آیت تک ہے تجھ پر جب کوئی مصیبت پڑے تو اس کو پڑھ لیا کرو۔ یہ سن کر کشتی کے سب سواروں نے اس کا مذاق اُڑایا اور کہا کہ تونے دس ہزار دیناروں کی کثیر دولت ضائع کردی تو اس نے جواب دیا کہ ہرگزہرگز میں نے اپنی دولت کو ضائع نہیں کیا ہے اور مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ قرآن شریف کی آیت ضرور نفع بخش ہو گی۔ اس کے بعد چند دن کشتی چلتی رہی۔ پھر اچانک طوفان کی موجوں سے کشتی ٹوٹ کر بکھر گئی اور سوائے اس آدمی کے کشتی کا کوئی آدمی بھی زندہ نہیں بچا۔ یہ کشتی کے ایک تختے پر بیٹھا ہوا سمندر میں بہتا چلا جارہا تھا یہاں تک کہ ایک جزیرہ میں اتر پڑا۔ اور چند قدم چل کر یہ دیکھا کہ شاندار محل بنا ہوا ہے اور ہر قسم کے موتی اور جواہرات وہاں پڑے ہوئے ہیں۔ اور اس محل میں ایک بہت ہی حسین عورت اکیلی بیٹھی ہوئی ہیں اور ہر قسم کے میوے اور کھانے کے سامان وہاں رکھے ہوئے ہیں۔ اس عورت نے اس سے پوچھا۔

''کہ تم کون ہو اور کیسے یہاں پہنچ گئے۔''

    تو اس نے عورت سے پوچھا کہ :

    ''تم کون ہو اور یہاں کیا کررہی ہو؟''

تو اس عورت نے اپنا قصہ سنایا کہ میں بصرہ کے ایک عظیم تاجر کی بیٹی ہوں میں اپنے باپ کے ساتھ سمندری سفر میں جارہی تھی کہ ہماری کشتی ٹوٹ گئی اور مجھے کوئی اچانک کشتی میں سے اچک کر لے بھاگا۔ اور میں اس جزیرہ میں اس محل کے اندر اس وقت سے پڑی ہوں۔ ایک شیطان ہے جو مجھے اس محل میں لے آیا ہے وہ ہر ساتویں دن یہاں آتا ہے اور میرے ساتھ صحبت تو نہیں کرتا مگر بوس و کنار کرتا ہے۔ اور آج اس کے یہاں آنے کا دن ہے۔ لہٰذا تم اپنی