جان بچا کر یہاں سے بھاگ جاؤ ورنہ وہ آ کر تم پر حملہ کردے گا۔ ابھی اس عورت کی گفتگو ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ ایک دم اندھیرا چھا گیا تو عورت نے کہا کہ جلدی بھاگ جاؤ وہ آرہا ہے ورنہ وہ تم کو ضرور ہلاک کردے گا۔ چنانچہ وہ آگیا اور یہ شخض کھڑا رہا مگر جوں ہی شیطان اس کو دبوچنے کے لئے آگے بڑھا تو اس نے وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو شیطان زمین پر گرپڑا۔ اور اس زور کی آواز آئی کہ گویا پہاڑ کا کوئی ٹکڑا ٹوٹ کر گر پڑا ہے اور پھر وہ شیطان جل کر راکھ کا ڈھیر ہو گیا۔ یہ دیکھ کر عورت نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو فرشتہ رحمت بنا کر میرے پاس بھیج دیا ہے۔ تمہاری بدولت مجھے اس شیطان سے نجات ملی۔ پھر اس عورت نے اس مرد سے کہا کہ ان موتی جواہرات کو اٹھالو اور اس محل سے نکل کر میرے ساتھ سمندر کے کنارے چلو اور کوئی کشتی تلاش کر کے یہاں سے نکل چلو۔ چنانچہ بہت سے موتی و جواہرات اور پھل وغیرہ کھانے کا سامان لے کر دونوں محل سے نکلے اور سمندر کے کنارے پہنچے تو ایک کشتی ''بصرہ'' جا رہی تھی۔ دونوں اس پر سوار ہو کر بصرہ پہنچے۔ لڑکی کے والدین اپنی گم شدہ لڑکی کو پا کر بے حد خوش ہوئے اور اس مرد کے ممنون ہو کر اس کو بہت عزت و احترام کے ساتھ اپنے گھر میں مہمان رکھا۔ پھر لڑکی کے والدین نے پوری سرگزشت سن کر دونوں کا نکاح کردیا اور دونوں میاں بیوی بن کر رہنے لگے۔ اور تمام موتی و جواہرات جو دونوں جزیرہ سے لائے تھے، وہ دونوں کی مشترکہ دولت بن گئے اور اس عورت سے خداوند تعالیٰ نے اس مرد کو چند اولاد بھی دی اور وہ دونوں بہت ہی محبت و الفت کے ساتھ خوش حال زندگی بسر کرنے لگے۔