Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
391 - 414
خوش ہوئے اور عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے بیٹے کی سلامتی کے ساتھ قید سے رہائی کی خبر سنائی اور یہ فتویٰ دریافت کیا کہ مشرکین کی یہ بکریاں اور اونٹ ہمارے لئے حلال ہیں یا نہیں؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی کہ وہ اونٹوں اور بکریوں کو جس طرح چاہیں استعمال کریں
 (تفسیر خزائن العرفان، ص۱۰۰۴، پ۲۸،الطلاق:۲)
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿2﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ اِنَّ اللہَ بَالِغُ اَمْرِہٖ ؕ قَدْ جَعَلَ اللہُ لِکُلِّ شَیۡءٍ قَدْرًا ﴿3﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور جو اللہ سے ڈرے اللہ اس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے روزی دے گا جہاں اس کا گمان نہ ہو اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اسے کافی ہے بیشک اللہ اپنا کام پورا کرنے والا ہے بیشک اللہ نے ہرچیز کا ایک اندازہ رکھا ہے۔(پ28،الطلاق:2۔3)

حدیث شریف میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ایک ایسی آیت جانتا ہوں کہ اگر لوگ اس آیت کو لے لیں تو یہ آیت لوگوں کو کافی ہوجائے گی۔ اور وہ آیت یہ ہے
وَمَنْ یَّتَّقِ اللہَ
سے آخر آیت تک۔
(تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۸۲، پ۲۸، الطلاق:۳)
حکایت عجیبہ:۔علامہ :اجہوری نے اپنی کتاب ''فضائل رمضان'' میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگ سمندر میں کشتی پر سوار ہو کر سفر کررہے تھے تو سمندر میں سے ایک آواز دینے والے کی آواز آئی مگر اس کی صورت نہیں دکھائی پڑی۔ اس نے کہا کہ اگر کوئی شخص مجھے دس ہزار دینار دے دے تو میں اس کو ایک ایسا وظیفہ بتا دوں گا کہ اگر وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گیا ہو اور اس وظیفہ کو پڑھ لے تو تمام بلائیں اور ہلاکتیں ٹل جائیں گی۔ تو کشتی والوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا کہ آؤ میں تجھ کو دس ہزار دینار دیتا ہوں تو مجھے وہ وظیفہ بتا دے تو آواز آئی کہ تو
Flag Counter