| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ہیں؟ اور امریکہ کے یہودی کس طرح ان کی بدعہدیوں پر ان کی پیٹھ ٹھونک کر خود اترا رہے ہیں، اور اسرائیلی حکومت کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں، حالانکہ پوری دنیا اسرائیل اور امریکہ پر لعنت و ملامت کررہی ہے مگر ان بے ایمان بے حیاؤں کی شرم و حیا اس طرح غارت ہوچکی ہے کہ ان ظالموں کو اس کا کوئی احساس ہی نہیں ہے۔ فلسطینی عرب تو ظاہر ہے کہ امریکی جیسی طاقت کا مقابلہ نہیں کرسکتے، مگر ہم ناامید نہیں ہیں اور قرآنی وعدوں سے پُر امید ہیں کہ ان شاء اللہ تعالیٰ بدستور و سابق ان لوگوں کو کوئی نہ کوئی عذابِ الٰہی تو ضرور ہلاک و برباد فرما دے گا۔
(۶۲)ایک عجیب وظیفہ
مفسرین نے فرمایا کہ عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک فرزند کو جن کا نام ''سالم'' تھا، مشرکوں نے گرفتار کرلیا تو عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اپنی مفلسی و فاقہ مستی کی شکایت کرتے ہوئے یہ عرض کیا کہ مشرکوں نے میرے بچے کو گرفتار کرلیا ہے، جس کے صدمہ سے اس کی ماں بے حد پریشان ہے تو اس سلسلے میں اب مجھے کیا کرنا چاہے؟ تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم صبر کرو اور پرہیزگاری کی زندگی بسر کرو اورتم بھی بکثرت
وَلاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ
پڑھا کرو اور بچے کی ماں کو بھی تاکید کردو کہ وہ بھی کثرت سے اس وظیفہ کا ذکر کرتی رہیں۔ یہ سن کر عوف بن مالک اشجعی اپنے گھر چلے گئے اور اپنی بیوی کو یہ وظیفہ بتا دیا۔ پھر دونوں میاں بیوی اس وظیفہ کو بکثرت پڑھنے لگے۔ اسی درمیان میں وظیفہ کا یہ اثر ہوا کہ ایک دن مشرکین ''سالم''کی طرف سے غافل ہو گئے چنانچہ موقع پا کر حضرت سالم مشرکوں کی قید سے نکل بھاگے اور چلتے وقت مشرکوں کی چار ہزار بکریاں اور پچاس اونٹوں کو بھی ہانک کر ساتھ لائے اور اپنے گھر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ ماں باپ نے دروازہ کھولا تو حضرت سالم موجود تھے، ماں باپ بیٹے کی ناگہاں ملاقات سے بے حد