Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
389 - 414
طرح فرمایا ہے کہ:
ہُوَ الَّذِیۡۤ اَخْرَجَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنْ اَہۡلِ الْکِتٰبِ مِنۡ دِیَارِہِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ؕؔ مَا ظَنَنۡتُمْ اَنۡ یَّخْرُجُوۡا وَ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ مَّانِعَتُہُمْ حُصُوۡنُہُمۡ مِّنَ اللہِ فَاَتٰىہُمُ اللہُ مِنْ حَیۡثُ لَمْ یَحْتَسِبُوۡا ٭ وَ قَذَفَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوۡنَ بُیُوۡتَہُمۡ بِاَیۡدِیۡہِمْ وَ اَیۡدِی الْمُؤْمِنِیۡنَ ٭ فَاعْتَبِرُوۡا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ ﴿2﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔وہی ہے جس نے ان کافر کتابیوں کو ان کے گھروں سے نکالا ان کے پہلے حشر کے لئے تمہیں گمان نہ تھا کہ وہ نکلیں گے اور وہ سمجھتے تھے کہ ان کے قلعے انہیں اللہ سے بچالیں گے تو اللہ کا حکم ان کے پاس آیا جہاں سے ان کا گمان بھی نہ تھا اور اُس نے ان کے دلوں میں رعب ڈالا کہ اپنے گھر ویران کرتے ہیں اپنے ہاتھوں اور مسلمانوں کے ہاتھوں تو عبرت لو اے نگاہ والو۔ (پ28،الحشر:2)

درسِ ہدایت:۔یہودیوں کی قوم اپنے روایتی حسد و بغض اور تاریخی منافقت میں ہمیشہ سے مشہور ہے۔ خاص کر غداری اور بدعہدی تو اُن کا قومی خاصہ ہے اس کے علاوہ ان بدبختوں کا ظلم بھی ضرب المثل ہے۔ یہاں تک کہ ان لوگوں نے بہت سے انبیاء کرام کو قتل کردیا۔ دراں حالیکہ ان بدبختوں کو یہ اعتراف تھا کہ ہم ان کو ناحق قتل کررہے ہیں۔ خداوند قدوس نے ان کی بدعہدیوں اور

وعدہ شکنیوں کا قرآن مجید میں بار بار ذکر فرما کر مسلمانوں کو متنبہ فرمایا ہے کہ یہودیوں کے عہد و معاہدہ پر ہرگز ہرگز مسلمانوں کو بھروسا نہیں کرناچاہے اور ہمیشہ ان بدبختوں کی مکاریوں اور دسیسہ کاریوں سے ہوشیار رہنا چاہے۔

اور بدعہدی اور عہد شکنی کے یہ خبیث خصائل اور بدترین شرارتوں کے گھناؤنے رذائل زمانہ دراز سے آج تک بدستور یہودیوں میں موجود ہیں جیسا کہ اس دور میں بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ آج کل اسرائیل کی غاصبانہ حکومت بنا کر فلسطینی عربوں کے ساتھ کیا کررہے
Flag Counter