تعالیٰ عنہ کوبھیجا کہ وہ بنونضیر کے یہودیوں تک یہ پیغام پہنچا دیں کہ چونکہ تم لوگوں نے غداری کر کے معاہدہ توڑ ڈالا ہے اس لئے تم لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ حجاز مقدس کی سرزمین سے جلا وطن ہو کر باہر نکل جاؤ۔ منافقین نے یہ سنا تو جمع ہو کر بنو نضیر کے پاس پہنچے اور کہنے لگے کہ تم لوگ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے اس حکم کو ہرگز تسلیم نہ کرو اور یہاں سے ہرگز جلاوطن نہ ہو۔ ہم ہر طرح تمہارے شریک کار ہیں۔ بنو نضیر نے منافقین کی پشت پناہی دیکھی تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ماننے سے انکار کردیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاد کی تیاری شروع کردی، اور حضرت عبداللہ بن ام مکتوم کو مدینہ کا امیر بنا کر صحابہ کرام کی ایک فوج لے کر بنو نضیر کے قلعہ پر حملہ آور ہوگئے۔ یہودی اس قلعہ میں بند ہو گئے اور انہوں نے یقین کرلیا کہ اب مسلمان ہمارا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قلعہ کا محاصرہ کرلیا اور پھر حکم دیا کہ ان کے درختوں کو کاٹ ڈالو کیونکہ ممکن تھا کہ درختوں کے جھنڈ میں چھپ کر یہودی اسلامی لشکر پر چھاپہ مارتے۔ ان حالات کو دیکھ کر بنونضیر کے یہودیوں پر ایسا رعب بیٹھ گیا اور اس قدر خوف طاری ہو گیا کہ وہ لرز اُٹھے، اور ان کو منافقین کی طرف سے بھی بجز مایوسی اور رسوائی کے کچھ ہاتھ نہ آیا، آخر کار مجبور ہو کر یہودیوں نے درخواست کی کہ ہم لوگوں کو جلا وطن ہونے کا موقع دیا جائے۔ چنانچہ ان لوگوں کو اجازت دی گئی کہ سامانِ جنگ کے علاوہ جس قدر سامان بھی وہ اونٹوں پر لاد کر لے جانا چاہتے ہیں، لے جائیں۔ چنانچہ بنونضیر کے یہودی چھ سو اونٹوں پر اپنا مال و سامان لاد کر ایک جلوس کی شکل میں گاتے بجاتے مدینہ سے نکلے اور کچھ تو ''خیبر''چلے گئے اور زیادہ تعداد میں ملک شام جا کر ''اذرعات'' اور ''اریحاء'' میں آباد ہو گئے اور چلتے وقت یہودیوں نے اپنے مکانوں کو گرا کر برباد کردیا تاکہ مسلمان ان مکانوں سے فائدہ نہ اُٹھا سکیں۔