ہجرت کے بعد جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مدینہ اور اطرافِ مدینہ کے یہودیوں سے ''صلح و عہد'' کا معاہدہ فرمالیا۔ مگر یہودی اپنے عہد و پیمان پر قائم نہیں رہے بلکہ انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کے خلاف اندرونی اور بیرونی سازشوں کا جال بچھانا شروع کردیا۔ اسی دوران یہودیوں میں سے قبیلہ ''بنونضیر''کے ذمہ دار افراد نے ایک روز یہ سازش کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جا کر یہ عرض کریں کہ ہم کو آپ سے ایک ضروری مشورہ کرنا ہے اور جب وہ تشریف لے آئیں تو دیوار کے قریب ان کو بٹھایا جائے اور وہ جب گفتگو میں مصروف ہوجائیں تو چھت کے اوپر سے ایک بھاری پتھر ان کے اوپر گرا کر ان کی زندگی کا خاتمہ کردیا جائے۔
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودیوں کی بستی میں تشریف لے گئے۔ مگر ابھی آپ دیوار کے قریب بیٹھے ہی تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی یہودیوں کی سازش سے آپ کو مطلع کردیا۔ اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموشی کے ساتھ فوراً واپس تشریف لے گئے۔ اس طرح یہودیوں کی سازش ناکام ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ پہنچ کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ