Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
386 - 414
منظر دیکھ کر غلام امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہو گیا اور سارا چشم دید ماجرا سنانے لگا۔ امیرالمومنین حضرت ابو عبیدہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اس سخاوت و اولو العزمی کی داستان کو سن کر فرط ِ تعجب سے انتہائی مسرور ہوئے اور فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ صحابہ کرام یقینا آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے پر انتہائی رحم دل اور آپس میں بے حد ہمدرد ہیں۔

حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور دوسرے صحابہ کرام سے بھی یہ روایت منقول ہے۔
 (تفسیر صاوی،ج۶، ص۲۱۳۸، پ۲۸، الحشر:۹)
ایک حدیث میں ہے کہ آیت مذکورہ بالا کا نزول اس واقعہ کے بعد ہوا کہ بارگاہِ نبوت میں ایک بھوکا شخص حاضر ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ازواجِ مطہرات کے حجروں میں معلوم کرایا کہ کیا کھانے کی کوئی چیز ہے؟ معلوم ہوا کہ کسی بی بی صاحبہ کے یہاں کچھ بھی نہیں ہے تب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابِ کرام سے فرمایا کہ جو اس شخص کو مہمان بنائے اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے۔ حضرت ابو طلحہ انصاری کھڑے ہوگئے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر مہمان کو اپنے گھر لے گئے۔

گھر جا کر بیوی سے دریافت کیا کہ گھر میں کچھ کھانا ہے؟ انہوں نے کہا کہ صرف بچوں کے لئے تھوڑا سا کھانا ہے۔ حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ بچوں کو بہلا پھسلا کر سلادو۔ اور جب مہمان کھانے بیٹھے تو چراغ درست کرنے کے لئے اٹھو اور چراغ کو بجھادو تاکہ مہمان اچھی طرح کھالے۔ یہ تجویز اس لئے کی کہ مہمان یہ نہ جان سکے کہ اہلِ خانہ اس کے ساتھ نہیں کھا رہے ہیں۔ کیونکہ اس کو یہ معلوم ہوجائے گا تو وہ اصرار کریگا اور کھانا تھوڑا ہے۔ اس لئے مہمان بھوکا رہ جائے گا۔ اس طرح حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہمان کو کھانا کھلا دیا اور خود اہلِ خانہ بھوکے سو رہے۔ جب صبح ہوئی اور حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی
Flag Counter