Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
381 - 414
اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حضرت ام المؤمنین بی بی صفیہ کو ایک دن ''یہودیہ''کہہ دیا تھا۔ جس سے ان کو بہت رنج و صدمہ ہوا۔ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو معلوم ہوا تو حضرت بی بی عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہت زیادہ خفگی کا اظہار فرمایا اور حضرت بی بی صفیہ رضی اللہ عنہا کی دل جوئی کے لئے فرمایا کہ تم ایک نبی (حضرت موسیٰ علیہ السلام)کی اولاد میں ہو اور تمہارے چچاؤں میں بھی ایک نبی (حضرت ہارون علیہ السلام) ہیں اور تم ایک نبی کی بیوی بھی ہو یعنی میری بیوی ہو۔ اس موقع پر ان آیات کا نزول ہوا۔
 (تفسیر صاوی،ج۵، ص۱۴۹۴، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
بہرحال ان مذکورہ بالا تینوں شانِ نزول میں سے کسی کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ (عزوجل) نے کسی قوم کا مذاق اڑانے کی سخت ممانعت فرمائی۔

آیت کریمہ یہ ہے کہ:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا یَسْخَرْ قَوۡمٌ مِّنۡ قَوْمٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا خَیۡرًا مِّنْہُمْ وَلَا نِسَآءٌ مِّنۡ نِّسَآءٍ عَسٰۤی اَنۡ یَّکُنَّ خَیۡرًا مِّنْہُنَّ ۚ وَلَا تَلْمِزُوۡۤا اَنۡفُسَکُمْ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالْاَلْقَابِ ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوۡقُ بَعْدَ الْاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿11﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو نہ مرد مردوں سے ہنسیں عجب نہیں کہ وہ ان ہنسنے والوں سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے دور نہیں کہ وہ ان ہنسنے والیوں سے بہتر ہوں اور آپس میں طعنہ نہ کرو اور ایک دوسرے کے برے نام نہ رکھو کیا ہی برا نام ہے مسلمان ہو کر فاسق کہلانا اور جو توبہ نہ کریں تو وہی ظالم ہیں۔(پ26،الحجرات:11)

درسِ ہدایت:۔قرآن کریم کی ان چمکتی ہوئی آیتوں کو بغور پڑھئے اور عبرت حاصل کیجئے کہ اس زمانے میں جو ایک فاسقانہ اور سراسر مجرمانہ رواج نکل پڑا ہے کہ ''سید''و ''شیخ''اور
Flag Counter