Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
382 - 414
''پٹھان''کہلانے والوں کا یہ دستور بن گیا ہے کہ وہ دُھنیا، جولاہا، کُنجڑا، قصائی، نائی کہہ کر مخلص و متقی مسلمانوں کا مذاق بنایا کرتے ہیں بلکہ ان قوموں کے عالموں کو محض ان کی قومیت کی بناء پر ذلیل و حقیر سمجھتے ہیں بلکہ اپنی مجلسوں میں ان کا مذاق بنا کر ہنستے ہنساتے ہیں۔ جہال تو جہال بڑے بڑے عالموں اور پیرانِ طریقت کا بھی یہی طریقہ ہے کہ وہ بھی یہی حرکتیں کرتے رہتے ہیں۔ حد ہو گئی کہ جو لوگ برسوں ان قوموں کے عالموں کے سامنے زانوئے تلمذ طے کر کے خود عالم اور شیخ طریقت بنے ہیں مگر پھر بھی محض قومیت کی بناء پر اپنے استادوں کو حقیر و ذلیل سمجھ کر ان کا تمسخر کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنے نسب و ذات پر فخر کر کے دوسروں کی ذلت و حقارت کا چرچا کرتے رہتے ہیں۔ لِلّٰہ بتایئے کہ قرآن مجید کی روشنی میں ایسے لوگ کتنے بڑے مجرم ہیں؟

ملاحظہ فرمایئے کہ قرآنِ مجید نے مندرجہ ذیل احکام اور وعیدیں بیان فرمائی ہیں:

(۱)کوئی قوم کسی قوم کا مذاق نہ اُڑائے۔ ہوسکتا ہے کہ جن کا مذاق اُڑا رہے ہیں وہ مذاق اُڑانے والوں سے دنیا و آخرت میں بہتر ہوں۔

(۲)مسلمانوں کے لئے جائز نہیں کہ ایک دوسرے پر طعنہ زنی کریں۔

(۳)مسلمانوں پر حرام ہے کہ ایک دوسرے کے لئے برے برے نام رکھیں۔

(۴)جو ایسا کرے وہ مسلمان ہو کر ''فاسق''ہے۔

(۵)اور جو اپنی ان حرکتوں سے توبہ نہ کرے وہ ''ظالم''ہے۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے فرمایا کہ اگر کوئی گناہ گار مسلمان اپنے گناہ سے توبہ کر لے تو توبہ کے بعد اس کو اس گناہ سے عار دلانا بھی اسی ممانعت میں داخل ہے۔ اسی طرح کسی مسلمان کو کتا، گدھا، سُور کہہ دینا بھی ممنوع ہے یا کسی مسلمان کو ایسے نام یا لقب سے یاد کرنا جس میں اس کی برائی ظاہر ہوتی ہو یا اس کو ناگوار ہوتا ہو یہ ساری صورتیں بھی اسی ممانعت میں داخل ہیں۔
 (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۳۰، پ۲۶،الحجرات:۱۱)
Flag Counter