Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
380 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔پاس آئی قیامت اور شق ہوگیا چاند اور اگر دیکھیں کوئی نشانی تو منہ پھیرتے اور کہتے ہیں یہ تو جادو ہے چلا آتا اور انہوں نے جھٹلایا اور اپنی خواہشوں کے پیچھے ہوئے اور ہر کام قرار پا چکا ہے۔ (پ27،القمر:1۔3)

درسِ ہدایت:۔ معجزہ ''شق القمر'' حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک بے مثال معجزہ ہے جو اس آیتِ کریمہ اور بہت سی مشہور حدیثوں سے ثابت ہے ہم نے اپنی کتاب ''سیرۃ المصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم''میں اس مسئلہ پر سیرِ حاصل بحث کی ہے اس کے مطالعہ سے اطمینان قلب اور جلاء ایمان حاصل کیجئے۔
              (۵۸)کسی قوم کا مذاق نہ اُڑاؤ
حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کچھ اونچا سنتے تھے اس لئے جب وہ مجلس شریف میں حاضر ہوتے تو صحابہ انہیں آگے جگہ دے دیا کرتے تھے۔ ایک دن جب وہ دربارِ رسالت میں آئے تو مجلس پُر ہوچکی تھی، لیکن وہ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے قریب پہنچ گئے۔ مگر پھر بھی ایک آدمی ان کے اور حضور کے درمیان رہ گیا۔ حضرت ثابت بن قیس اس کو بھی ہٹانے لگے لیکن وہ شخص اپنی جگہ سے بالکل نہیں ہٹا تو حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے غصہ میں بھر کر پوچھا کہ تم کون ہو؟ تو اس شخص نے کہا کہ فلاں آدمی ہوں۔یہ سن کر حضرت ثابت بن قیس نے حقارت کے لہجے میں کہا کہ اچھاتو فلانی عورت کا لڑکا ہے ۔ یہ سن کر اس شخص نے شرمندہ ہو کر سر جھکالیا اور اس کو بڑی تکلیف ہوئی اس موقع پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔

اور حضرت ضحاک سے منقول ہے کہ قبیلہ بنی تمیم کے کچھ لوگ بہترین پوشاک پہن کر بصورت وفد بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں آئے اور جب ان لوگوں نے ''اصحاب صفہ''کے غریب و مفلس مسلمانوں کو فرسودہ حال دیکھا تو ان کا مذاق اُڑانے لگے اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی۔
 (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۲۹، پ۲۶، الحجرات:۱۱)
Flag Counter