Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
379 - 414
یہی خطرہ محسوس کرتے رہیں کہ شاید یہ کوئی فرشتہ ہو جو تاجر یا سائل یا مزدور کے بھیس میں ہے اور پھر اس سے سنبھل کر بات چیت کریں اور حتی الامکان اس کو راضی رکھنے کی کوشش کریں اور ہرگز ہرگز کسی تلخ کلامی یا سخت گوئی کی نوبت نہ آنے دیں کہ اسی میں سلامتی ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
                 (۵۷)چاند دو ٹکڑے ہو گیا
کفارِ مکہ نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزہ طلب کیا تو آپ نے چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھا دیا ایک ٹکڑا ''جبل ابو قبیس'' پر نظر آیا اور دوسر اٹکڑا ''جبل قعیقعان'' پر دیکھا گیا۔ اس طرح چاند کو دو پارہ کر کے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کفارِ مکہ کو دکھا دیا اور فرمایا کہ تم لوگ گواہ ہوجاؤ۔
 (تفسیر جلالین، ص۴۴۰،پ۲۷، القمر:۱)
یہ دیکھ کر کفار مکہ نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے جادو کر کے ہماری نظر بندی کر دی ہے اس پر انہیں کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ نظر بندی ہے تو مکہ سے باہر کے کسی آدمی کو چاند کے حصے نظر نہ آئے ہوں گے۔ لہٰذا اب باہر سے جو قافلے آنے والے ہیں ان کی جستجو رکھو اور مسافرں سے دریافت کرو اگر دوسرے مقامات سے بھی چاند کا شق ہونا دیکھا گیا ہے تو بیشک یہ معجزہ ہے۔ چنانچہ سفر سے آنے والوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا کہ اس روز چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی۔ لیکن وہ لوگ اپنے عناد سے اس کو جادو ہی کہتے رہے۔ یہ معجزہ عظیمہ صحاح کی احادیث کثیرہ میں مذکور ہے اور یہ حدیث اس قدر درجہ شہرت کو پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے۔
 (تفسیر خزائن العرفان، ص۹۵۳۔۹۵۴،پ۲۷،القمر:۱)
اللہ تعالیٰ نے اس معجزہ کا بیان قرآن کی سورہ قمر میں ان الفاظ کے ساتھ بالاعلان فرمایا کہ:
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الْقَمَرُ ﴿1﴾وَ اِنۡ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿2﴾وَکَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمْ وَ کُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ﴿3﴾
Flag Counter