(تفسیر جلالین، ص۴۴۰،پ۲۷، القمر:۱)
یہ دیکھ کر کفار مکہ نے کہا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نے جادو کر کے ہماری نظر بندی کر دی ہے اس پر انہیں کی جماعت کے لوگوں نے کہا کہ اگر یہ نظر بندی ہے تو مکہ سے باہر کے کسی آدمی کو چاند کے حصے نظر نہ آئے ہوں گے۔ لہٰذا اب باہر سے جو قافلے آنے والے ہیں ان کی جستجو رکھو اور مسافرں سے دریافت کرو اگر دوسرے مقامات سے بھی چاند کا شق ہونا دیکھا گیا ہے تو بیشک یہ معجزہ ہے۔ چنانچہ سفر سے آنے والوں سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم نے دیکھا کہ اس روز چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے تھے۔ اس کے بعد مشرکین کو انکار کی گنجائش نہ رہی۔ لیکن وہ لوگ اپنے عناد سے اس کو جادو ہی کہتے رہے۔ یہ معجزہ عظیمہ صحاح کی احادیث کثیرہ میں مذکور ہے اور یہ حدیث اس قدر درجہ شہرت کو پہنچ گئی ہے کہ اس کا انکار کرنا عقل و انصاف سے دشمنی اور بے دینی ہے۔
(تفسیر خزائن العرفان، ص۹۵۳۔۹۵۴،پ۲۷،القمر:۱)
اللہ تعالیٰ نے اس معجزہ کا بیان قرآن کی سورہ قمر میں ان الفاظ کے ساتھ بالاعلان فرمایا کہ:
اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَ انۡشَقَّ الْقَمَرُ ﴿1﴾وَ اِنۡ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوۡا وَ یَقُوۡلُوۡا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ ﴿2﴾وَکَذَّبُوۡا وَ اتَّبَعُوۡۤا اَہۡوَآءَہُمْ وَ کُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ ﴿3﴾