Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
378 - 414
فَاَوْجَسَ مِنْہُمْ خِیۡفَۃً ؕ قَالُوۡا لَا تَخَفْ ؕ وَ بَشَّرُوۡہُ  بِغُلٰمٍ عَلِیۡمٍ ﴿28﴾      فَاَقْبَلَتِ امْرَاتُہٗ  فِیۡ صَرَّۃٍ  فَصَکَّتْ وَجْہَہَا وَ قَالَتْ عَجُوۡزٌ عَقِیۡمٌ ﴿29﴾      قَالُوۡا کَذٰلِکِ ۙ قَالَ رَبُّکِ ؕ اِنَّہٗ  ہُوَ الْحَکِیۡمُ الْعَلِیۡمُ ﴿30﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے محبوب کیا تمہارے پاس ابراہیم کے معزز مہمانوں کی خبر آئی جب وہ اس کے پاس آ کر بولے سلام کہا سلام نا شناسا لوگ ہیں پھر اپنے گھر گیا تو ایک فربہ بچھڑا لے آیا پھر اسے ان کے پاس رکھا کہا کیا تم کھاتے نہیں تو اپنے جی میں ان سے ڈرنے لگا وہ بولے ڈریئے نہیں اور اسے ایک علم والے لڑکے کی بشارت دی اس پر اس کی بی بی چلاتی آئی پھر اپنا ماتھا ٹھونکا اور بولی کیا بڑھیا بانجھ انہوں نے کہا تمہارے رب نے یونہی فرما دیا ہے اور وہی حکیم دانا ہے۔      (پ26،الذاریات:24۔30)

درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے یہ ہدایت کی روشنی ملتی ہے کہ ملائکہ کبھی کبھی آدمی کی صورت میں لوگوں کے پاس آیا کرتے ہیں۔ چنانچہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حج کے موقع پر حرم کعبہ اور منیٰ و عرفات و مزدلفہ وغیرہ میں کچھ فرشتوں کی جماعت انسانوں کی شکل و صورت میں مختلف بھیس بنا کر آتی ہے جو حاجیوں کے امتحان کے لئے خدا کی طرف سے بھیجی جاتی ہے۔ اس لئے حجاج کرام کو لازم ہے کہ مکہ مکرمہ اور منٰی و عرفات و مزدلفہ اور طواف ِ کعبہ و زیارتِ مدینہ منورہ کے ہجوم میں ہوشیار رہیں کہ ہرگزہرگز کسی انسان کی بھی بے ادبی و دل آزاری نہ ہونے پائے اور تاجروں یا حمالوں یا فقیروں سے جھگڑا تکرار نہ ہونے پائے۔ تمہیں کیا خبر ہے کہ یہ آدمی ہے یا آدمی کی صورت میں کوئی فرشتہ ہے جو تمہیں دھکا دے کر یا ڈانٹ کر تمہارے حلم و صبر کا امتحان لے رہا ہے۔ یہ وہ نکتہ ہے جس سے عام طور پر لوگ ناواقف ہیں اس لئے سفر حج میں قدم قدم پر لوگوں سے الجھتے اور جھگڑتے رہتے ہیں اور بعض اوقات دنیا و آخرت کا شدید نقصان و خسارہ اٹھاتے ہیں۔ لہٰذا اس نقصانِ عظیم سے بچنے کی بہترین تدبیر یہی ہے کہ ہر شخص کے بارے میں
Flag Counter