حضرات ایسے وقت تشریف لائے جو مہمانوں کے آنے کا وقت نہیں تھا۔ پھر یہ حضرات بغیر اجازت طلب کئے دندناتے ہوئے مکان کے اندر داخل ہو گئے پھر جب حضرت ابراہیم علیہ السلام حسب ِ عادت ان حضرات کی مہمان نوازی کے لئے ایک فربہ بھنا ہوا بچھڑا لائے تو ان حضرات نے کھانے سے انکار کردیا۔ ان مہمانوں کی مذکورہ بالا تین اداؤں کی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کچھ خدشہ گزرا کہ شاید یہ لوگ دشمن ہیں کیونکہ اس زمانے کا یہی رواج تھا کہ دشمن جس گھر میں دشمنی کے لئے جاتا تھا اس گھر میں کچھ کھاتا پیتا نہیں تھا۔ چنانچہ آپ ان مہمانوں سے کچھ خوف محسوس فرمانے لگے۔ یہ دیکھ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ اے اللہ کے نبی علیہ السلام آپ ہم سے بالکل کوئی خوف نہ کریں ہم اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور ہم دو کاموں کے لئے آئے ہیں پہلا مقصد تو یہ ہے کہ ہم آپ کو یہ بشارت سنانے آئے ہیں کہ آپ کو اللہ تعالیٰ ایک علم والا فرزند عطا فرمائے گا اور ہمارا دوسرا کام یہ ہے کہ ہم حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب لے کر آئے ہیں۔
فرزند کی بشارت سن کر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مقدس بیوی حضرت ''سارہ''چونک پڑیں کیونکہ ان کی عمر ننانوے برس کی ہوچکی تھی اور وہ کبھی حاملہ بھی نہیں ہوئی تھیں۔ تعجب سے وہ چلاتی ہوئی آئیں اور ہاتھ سے ماٹھا ٹھونک کر کہنے لگیں کہ کیا مجھ بڑھیا بانجھ کے بھی فرزند ہو گا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا کہ ہاں آپ کے رب کا یہی فرمان ہے اور وہ پروردگار بڑی حکمتوں والا بہت علم والا ہے۔ چنانچہ حضرت اسحٰق علیہ السلام پیدا ہوئے۔