(۲)اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایک شخص اگر عادل اور پابند شریعت ہو تو اس کی خبر معتبر ہے۔
(۳)بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ آیت عام ہے اور ہر فاسق کی خبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
(۴)ولید بن عقبہ کو صحابی ہوتے ہوئے قرآن مجید نے فاسق کہا تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد جب ولید بن عقبہ نے صدقِ دل سے سچی توبہ کرلی تو ان کا فسق زائل ہو گیا۔ لہٰذا کسی صحابی کو فاسق کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ ہر صحابی صادق، عادل اور پابند شرع ہے۔
(۵۶)ملائکہ مہمان بن کر آئے
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے۔ منقول ہے کہ جب تک آپ کے دستر خوان پر مہمان نہیں آجاتے تھے آپ کھانا نہیں تناول فرماتے تھے۔ ایک دن مہمانوں کا ایک ایسا قافلہ آپ کے گھر اُتر پڑا کہ ان مہمانوں سے آپ خوفزدہ ہو گئے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے جو دس یا بارہ فرشتوں کو ہمراہ لے کر تشریف لائے تھے اور سلام کر کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ سب فرشتے نہایت ہی خوبصورت انسانوں کی شکل میں تھے۔ اولاً تو یہ