Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
376 - 414
اسلام نے اس طریقہ کو بالکل غلط قرار دیا ہے بلکہ قرآن نے اسلامی آداب کا یہ قانون بتایا ہے کہ ہر خبر کو سن کر پہلے اس کی تحقیق کرلینی چاہے جب وہ خبر پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو پھر اس خبر کو لوگوں سے بیان کرنا چاہے اسی بات کی طرف متوجہ کرنے کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تنبیہ فرمائی ہے کہ
کَفٰی بِالْمَرْءِ کِذَابًا اَنْ یُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ
 (صحیح مسلم، باب النھی عن الحدیث بکل ما سمع، رقم الحدیث ۵، ص ۸ )
یعنی آدمی کے جھوٹا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جو بات بھی سنے لوگوں سے (بلا تحقیق)بیان کرنے لگے۔
 (واللہ تعالیٰ اعلم)
 (۲)اس آیت سے ثابت ہوا کہ ایک شخص اگر عادل اور پابند شریعت ہو تو اس کی خبر معتبر ہے۔

(۳)بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ آیت ولید بن عقبہ ہی کے ساتھ خاص نہیں بلکہ یہ آیت عام ہے اور ہر فاسق کی خبر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

(۴)ولید بن عقبہ کو صحابی ہوتے ہوئے قرآن مجید نے فاسق کہا تو اس میں کوئی اشکال نہیں ہے کیونکہ اس واقعہ کے بعد جب ولید بن عقبہ نے صدقِ دل سے سچی توبہ کرلی تو ان کا فسق زائل ہو گیا۔ لہٰذا کسی صحابی کو فاسق کہنا ہرگز ہرگز جائز نہیں ہے کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ ہر صحابی صادق، عادل اور پابند شرع ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
             (۵۶)ملائکہ مہمان بن کر آئے
حضرت ابراہیم علیہ السلام بہت مہمان نواز تھے۔ منقول ہے کہ جب تک آپ کے دستر خوان پر مہمان نہیں آجاتے تھے آپ کھانا نہیں تناول فرماتے تھے۔ ایک دن مہمانوں کا ایک ایسا قافلہ آپ کے گھر اُتر پڑا کہ ان مہمانوں سے آپ خوفزدہ ہو گئے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام تھے جو دس یا بارہ فرشتوں کو ہمراہ لے کر تشریف لائے تھے اور سلام کر کے مکان کے اندر داخل ہو گئے۔ یہ سب فرشتے نہایت ہی خوبصورت انسانوں کی شکل میں تھے۔ اولاً تو یہ
Flag Counter