Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
375 - 414
جانب اپنے عامل ولید کا بیان اور دوسری جانب بنی المصطلق کے وفد کا یہ بیان دونوں باتیں سن کر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خاموشی اختیار فرمالی۔ اور وحی الٰہی کا انتظار فرمانے لگے، آخر وحی اُتر پڑی اور سورہ''حجرات'' کی آیات نے نازل ہو کر نہ صرف معاملہ کی حقیقت ہی واضح کردی بلکہ اس خصوص میں ایک مستقل قانون اور معیارِ تحقیق بھی عطا فرمادیا۔ وہ آیات یہ ہیں۔
 (تفسیر خزائن العرفان،ص۹۲۸، پ۲۶،الحجرات:۶)
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوۡۤا اَنۡ تُصِیۡبُوۡا قَوْمًۢا بِجَہَالَۃٍ فَتُصْبِحُوۡا عَلٰی مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِیۡنَ ﴿6﴾وَ اعْلَمُوۡۤا اَنَّ فِیۡکُمْ رَسُوۡلَ اللہِ ؕ لَوْ یُطِیۡعُکُمْ فِیۡ کَثِیۡرٍ مِّنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَ لٰکِنَّ اللہَ حَبَّبَ اِلَیۡکُمُ الْاِیۡمَانَ وَ زَیَّنَہٗ فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ وَ کَرَّہَ اِلَیۡکُمُ الْکُفْرَ وَ الْفُسُوۡقَ وَ الْعِصْیَانَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الرّٰشِدُوۡنَ ۙ﴿7﴾فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَ نِعْمَۃً ؕ وَ اللہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے ایمان والو اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کرلو کہ کہیں کسی قوم کو بے جانے ایذاء نہ دے بیٹھو پھر اپنے کئے پر پچتاتے رہ جاؤ اور جان لو کہ تم میں اللہ کے رسول ہیں بہت معاملوں میں اگر یہ تمہاری خوشی کریں تو تم ضرور مشقت میں پڑو لیکن اللہ نے تمہیں ایمان پیارا کردیا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں آراستہ کردیا اور کفر اور حکم عدولی اور نافرمانی تمہیں ناگوار کردی ایسے ہی لوگ راہ پر ہیں اللہ کا فضل اور احسان اوراللہ علم و حکمت والا ہے۔(پ26، الحجرات:6۔8)

درسِ ہدایت:۔(۱)خبروں کے بیان کرنے میں عام طور پ لوگوں کا یہی مزاج اور طریقہ بن چکا ہے کہ جو خبر بھی ان کے کانوں تک پہنچے اس کو بلا تکلف بیان کردیا کرتے ہیں اور حقیقتِ حال کی تفتیش اور جستجو بالکل نہیں کرتے۔ خواہ اس خبر سے کسی بے گناہ پر افتراء کیا جاتا ہو یا کسی کو نقصان پہنچتا ہو۔
Flag Counter