۵ ھ کے غزوہ بنی مصطلق میں جب مسلمان فتح یاب ہو گئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قبیلہ کے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرما لیا تو صحابہ کرام نے تمام اسیرانِ جنگ کو یہ کہہ کر رہا کردیا کہ جس خاندان میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کرلی، اس خاندان کا کوئی آدمی لونڈی غلام نہیں رہ سکتا۔ مسلمانوں کے اس حسنِ سلوک اور اخلاقِ کریمانہ سے متاثر ہو کر تمام قبیلہ مشرف بہ اسلام ہو گیا۔ اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ''ولید بن عقبہ''کو اس قبیلہ والوں کے پاس بھیجا تاکہ وہ قبیلے کے دولت مندوں سے زکوٰۃ وصول کر کے ان کے فقراء پر تقسیم کردیں۔
قبیلہ بنی المصطلق کے لوگوں کو جب ''ولید''کی اس آمد کا علم ہوا تو وہ عامل اسلام کے استقبال کے لئے خوشی خوشی ہتھیار لے کر بستی سے باہر میدان میں نکلے۔ زمانہ جاہلیت میں اس قبیلہ اور ولید میں کچھ ناچاقی رہ چکی تھی اس لئے پرانی عداوت کی بناء پر استقبال کے لئے اس اہتمام کو ولید نے دوسری نظر سے دیکھا اور سمجھا اور قبیلہ والوں سے اصل معاملہ دریافت کئے بغیر ہی مدینہ واپس چلا آیا، اور دربارِ نبوت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ قبیلہ بنی مصطلق کے لوگ تو مرتد ہو گئے اور انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اس خبر سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم رنجیدہ ہوئے اور مسلمان بے حد برافروختہ ہوگئے بلکہ مقابلہ کے لئے جہاد کی تیاریاں ہونے لگیں۔ ادھر بنی مصطلق کو ولید کے اس عجیب طرزِ عمل سے بڑی حیرت ہوئی اور جب ان لوگوں کو معلوم ہوا کہ ولید نے دربارِ نبوت میں غلط بیانی اور تہمت طرازی کردی ہے تو ان لوگوں نے ایک معزز اور باوقار وفد دربارِ نبوت میں بھیجا جس نے بنی المصطلق کی طرف سے صفائی پیش کی۔ ایک