| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
بیٹیا ں: اس زمانے میں دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ بیٹیوں کی پیدائش سے چڑتے ہیں اور منہ بگاڑ لیتے ہیں بلکہ بعض بدنصیب تو اول فول بک کر کفرانِ نعمت کے گناہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ بیٹیوں کی پیدائش پر منہ بگاڑ کر ناراض ہوجانا یہ زمانہ جاہلیت کے کفار کا منحوس طریقہ ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:
وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُہُمْ بِالۡاُنۡثٰی ظَلَّ وَجْہُہٗ مُسْوَدًّا وَّہُوَ کَظِیۡمٌ ﴿ۚ58﴾یَتَوَارٰی مِنَ الْقَوْمِ مِنۡ سُوۡٓءِ مَا بُشِّرَ بِہٖ ؕ اَیُمْسِکُہٗ عَلٰی ہُوۡنٍ اَمْ یَدُسُّہٗ فِی التُّرَابِ ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْکُمُوۡنَ ﴿59﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور جب ان میں کسی کو بیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو دن بھر اس کا منہ کالا رہتا ہے اور وہ غصہ کھاتا ہے لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اس بشارت کی برائی کے سبب کیا اسے ذلت کے ساتھ رکھے گا یا اسے مٹی میں دبا دے گا ارے بہت ہی برا حکم لگاتے ہیں۔ (پ14،النحل:58۔59) خوب سمجھ لو کہ مسلمانوں کا اسلامی طریقہ یہ ہے کہ بیٹیوں کی پیدائش پر بھی خوش ہو کر اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر ادا کرے اور مندرجہ ذیل حدیثوں کی بشارت پر ایمان رکھ کر سعادتِ دارین کی کرامتوں سے سرفراز ہو۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مندرجہ ذیل حدیثیں ارشاد فرمائی ہیں: (۱)عورت کے لئے یہ بہت ہی مبارک ہے کہ اس کی پہلی اولاد لڑکی ہو۔ (۲)جس شخص کو کچھ بیٹیاں ملیں اور وہ ان کے ساتھ نیک سلوک کرے یہاں تک کہ کفو میں ان کی شادی کردے تو وہ بیٹیاں اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ (۳)حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ تم لوگ بیٹیوں کو برا مت سمجھو، اس لئے کہ میں بھی چند بیٹیوں کا باپ ہوں۔