| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
ترجمہ کنزالایمان:۔جسے چاہے بیٹیاں عطا فرمائے اور جسے چاہے بیٹے دے یا دونوں ملا دے بیٹے اور بیٹیاں اور جسے چاہے بانجھ کردے بے شک وہ علم و قدرت والا ہے۔ (پ25،الشورٰی:49۔50) درسِ ہدایت:۔اللہ تعالیٰ بیٹی دے یا بیٹا دے یا دونوں عطا فرمائے یا بانجھ بنا دے بہرحال یہ سبھی خدا کی نعمتیں ہیں۔ مذکورہ بالا آیت کے آخری حصہ یعنی
اِنَّہ، عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ
میں اسی طرف اشارہ ہے کہ کون اس کے لائق ہے کہ اس کو بیٹی ملے اور کون اس قابل ہے کہ اس کو بیٹا ملے اور کون اس کی اہلیت رکھتا ہے کہ اس کو بیٹا اور بیٹی دونوں ملیں اور کون ایسا ہے کہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے کہ اس کے کوئی اولاد ہی نہ ہو۔ ان باتوں کو اللہ تعالیٰ ہی خوب جانتا ہے کیونکہ وہ بہت علم والا اور بڑی قدرت والا ہے۔ انسان اپنی ہزار علم و آگہی کے باوجود اس معاملہ کو نہیں جانتا کہ انسان کے حق میں کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ:
وَعَسٰۤی اَنۡ تَکْرَہُوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمْ ۚ وَعَسٰۤی اَنۡ تُحِبُّوۡا شَیْـًٔا وَّہُوَ شَرٌّ لَّکُمْ ؕ وَاللہُ یَعْلَمُ وَ اَنۡتُمْ لَا تَعْلَمُوۡنَ ﴿216﴾٪
ترجمہ کنزالایمان:۔اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(پ2،البقرہ:216) اس لئے بندوں کو چاہے کہ اگر اپنی خواہش کے مطابق کوئی چیز نہ مل سکے تو ہرگز ناراض نہ ہوں بلکہ یہ سوچ کر صبر کریں کہ ہم اس چیز کے لائق ہی نہیں تھے اس لئے ہمیں خدا نے نہیں دیا وہ علیم و قدیر ہے وہ خوب جانتا ہے کہ کون کس چیز کا اہل ہے اور کون اہل نہیں ہے۔
اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر