Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
371 - 414
علیہ وسلم کا کہ آپ ہی کے طفیل میں ہم مسلمانوں کو یہ رتبہ بلند اور درجہ عالیہ حاصل ہوا ہے کہ بے شمار طبقہ اعلیٰ کے فرشتے ہم گناہ گار مسلمانوں کے لئے دعائیں مانگتے رہتے ہیں وہ بھی کون سے فرشتے؟ عرشِ الٰہی کے اٹھانے والے فرشتے اور عرشِ الٰہی کا طواف کرنے والے فرشتے سبحان اللہ!کہاں ہم اور کہاں ملاءِ اعلیٰ کے ملائکہ،مگر حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کا طفیل ہے کہ اس نے ہم قطروں کو سمندر ناپیدا کنار اور ہم ذروں کو آفتاب عالمتاب بنا دیا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! ایک بار بصد اخلاص نبی مکرم رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھئے۔
         اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی اٰلِ سَیِّدِنَا مُحَمَّدٍ وَّبَارِکْ وَسَلِّمْ
            (۵۴)صاحب ِ اولاد اور بانجھ
اللہ تعالیٰ کا دستور یہ ہے کہ وہ کسی کو صرف بیٹی عطا فرماتا ہے اور کسی کو صرف بیٹا دیتا ہے اور کچھ لوگوں کو بیٹا اور بیٹی دونوں ہی عطا فرما دیا کرتا ہے۔ اور کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو بانجھ بنا دیتا ہے نہ انہیں بیٹی دیتا ہے نہ بیٹا اور یہ دستورِ خداوندی صرف عام انسانوں ہی تک محدود نہیں بلکہ اس نے اپنے خاص و مخصوص بندوں یعنی حضرات انبیاء علیہم السلام کو بھی اس خصوص میں چاروں طرح کا بنایا ہے۔ چنانچہ حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہما السلام کے صرف بیٹیاں ہی تھیں کوئی بیٹا نہیں تھا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صرف بیٹے ہی بیٹے تھے کوئی بیٹی ہوئی ہی نہیں۔ اور حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے چار بیٹے اور چار بیٹیاں عطا فرمائیں اور حضرت عیسیٰ و حضرت یحییٰ علیہما السلام کے کوئی اولاد ہی نہیں ہوئی۔
    (تفسیر روح البیان،ج۸، ص۳۴۲۔۳۴۳، پ۲۵،الشوریٰ:۴۹۔۵۰)
قرآن مجید میں رب العزت جل جلالہ نے اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ:
یَہَبُ لِمَنْ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ49﴾اَوْ یُزَوِّجُہُمْ ذُکْرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ
Flag Counter