| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
کے پیچھے ہے۔ یہ سب عرش کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ پھر ان سبھوں کے بعد ستر ہزار ملائکہ کی صف ہے اور وہ اپنے ہاتھ اپنے کاندھوں پر رکھتے ہوئے خدا کی تسبیح و تکبیر پڑھتے رہتے ہیں۔ پھر ان کے بعد اور ایک سو صفیں فرشتوں کی ہیں جو اپنا داہنا ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھے ہوئے تسبیح و تکبیر اور دعا میں مشغول ہیں ۔
(تفسیر صاوی، ج۵، ص۱۸۱۵، پ۲۴، المومن:۷)
اور سب فرشتوں کی دعا کیا ہے۔ اس کو قرآنِ مجید کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے۔ ارشادِ ربانی ہے کہ:
اَلَّذِیۡنَ یَحْمِلُوۡنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَہٗ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَ یُؤْمِنُوۡنَ بِہٖ وَ یَسْتَغْفِرُوۡنَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیۡءٍ رَّحْمَۃً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِیۡنَ تَابُوۡا وَ اتَّبَعُوۡا سَبِیۡلَکَ وَقِہِمْ عَذَابَ الْجَحِیۡمِ ﴿7﴾رَبَّنَا وَ اَدْخِلْہُمْ جَنّٰتِ عَدْنِ ۣالَّتِیۡ وَ عَدۡتَّہُمۡ وَمَنۡ صَلَحَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ اَزْوَاجِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِہِمْ ؕ اِنَّکَ اَنۡتَ الْعَزِیۡزُ الْحَکِیۡمُ ۙ﴿8﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔وہ جو عرش اُٹھاتے ہیں اور جو اس کے گرد ہیں اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بولتے اور اس پر ایمان لاتے اور مسلمانوں کی مغفرت مانگتے ہیں اے رب ہمارے تیرے رحمت و علم میں ہر چیز کی سمائی ہے تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی اور تیری راہ پر چلے اور انہیں دوزخ کے عذاب سے بچالے اے ہمارے رب اور انہیں بسنے کے باغوں میں داخل کر جن کا تونے ان سے وعدہ فرمایا ہے اور ان کو جو نیک ہوں ان کے باپ دادا اور بی بیوں اور اولاد میں بیشک تو ہی عزت و حکمت والا ہے۔(پ24،المومن:7۔8) درسِ ہدایت:۔آپ نے عرشِ الٰہی کے اٹھانے والے اور عرش کا طواف کرنے والے فرشتوں کی دعا ملاحظہ کرلی کہ وہ سب مقدس فرشتے ہم مسلمانوں اور ہمارے والدین اور بیویوں اور ہماری اولاد کے لئے جہنم سے نجات پانے اور جنت عدن میں داخل ہونے کی دعائیں مانگتے رہتے ہیں۔ اللہ اکبر!کتنا بڑا احسانِ عظیم ہے ہم مسلمانوں پر حضور اکرم صلی اللہ