| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
درسِ ہدایت:۔ان آیات کی جو تفسیر ہم نے تحریر کی ہے اس کو ابن جریر طبری اور امام رازی نے ترجیح دی ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بھی یہی تفسیر فرمائی ہے۔ جس کے ناقل علی بن ابی طلحہ ہیں ان آیات کی تفسیر میں بعض مفسرین نے گھوڑوں کی پنڈلیاں اور گھوڑوں کی گردنوں کو تلوار سے کاٹ ڈالنا تحریر کیا ہے اور اسی قسم کے بعض دوسرے کمزور اقوال بھی تحریر کئے ہیں جن کی صحت پر کوئی دلیل نہیں ہے اور وہ محض حکایات اور داستانیں ہیں جو دلائل قویہ کے سامنے کسی طرح قابل قبول نہیں اور یہ تفسیر جو ہم نے تحریر کی ہے اس پر نہ کوئی اشکال و اعتراض پڑتا ہے نہ کسی تاویل کی ضرورت پیش آتی ہے۔
(تفسیر خزائن العرفان،ص ۸۱۹، پ۲۳، ص ۤ: ۳۳)
(۵۰)پہاڑوں اور پرندوں کی تسبیح
حضرت داؤد علیہ السلام خداوند قدوس کی تسبیح و تقدیس میں بہت زیادہ مشغول و مصروف رہتے تھے اور آپ اس قدر خوش الحان تھے کہ جب آپ زبور شریف پڑھتے تھے تو آپ کے وجد آفریں نغموں سے نہ صرف انسان بلکہ وحوش و طیور بھی وجد میں آجاتے اور آپ کے گرد جمع ہو کر خدا کی حمد کے ترانے گاتے اور اپنی اپنی سریلی اور پرکیف آوازوں میں تسبیح و تقدیس میں حضرت داؤد علیہ السلام کی ہمنوائی کرتے اور چرند و پرند ہی نہیں بلکہ پہاڑ بھی خداوند تعالیٰ کی حمد و ثناء میں گونج اٹھتے تھے۔ چنانچہ حضرت داؤد علیہ السلام کے ان معجزات کا ذکر جمیل اللہ تعالیٰ نے سورہ انبیاء و سورہ سبا و سورہ ص ۤ میں صراحت کے ساتھ بیان فرمایا کہ:
وَّ سَخَّرْنَا مَعَ دَاوٗدَ الْجِبَالَ یُسَبِّحْنَ وَ الطَّیۡرَ ؕ وَکُنَّا فٰعِلِیۡنَ
ترجمہ کنزالایمان:۔اور داؤد کے ساتھ پہاڑ مسخر فرما دیئے کہ تسبیح کرتے اور پرندے اور یہ ہمارے کام تھے۔ (پ17،الانبیاء:79) اور سورہ سبا میں اس طرح ارشاد فرمایا کہ: