بے عقل پرندے اور بے جان پہاڑ جب خداوند قدوس کی تسبیح و تقدیس کا نغمہ گایا کرتے ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید کی مذکورہ بالا آیتوں میں آپ پڑھ چکے تو اس سے ہم انسانوں کو یہ سبق ملتا ہے کہ ہم انسان جو عقل والے، ہوشمند اور صاحب ِ زبان ہیں ہم پر بھی لازم ہے کہ ہم خداوند قدوس کی تسبیح اور اس کی حمد و ثناء کے افکار کو ورد زبان بنائیں اور اس کی تسبیح و تقدیس میں برابر مشغول و مصروف رہیں۔
حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے اس سلسلہ میں ایک بہت ہی لطیف و لذیذ اور نہایت ہی مؤثر حکایت بیان فرمائی ہے اس کو پڑھئے اور عبرت و نصیحت حاصل کیجئے وہ فرماتے ہیں:
دوش مرغے بصبح می نالید عقل و صبرم ربود و طاقت و ہوش
ایک پرند صبح کو چہچہا رہا تھا تو اس کی آواز سے میری عقل و صبر اور طاقت و ہوش سب غارت ہو گئے۔
یکے از دوستانِ مخلص را مگر آوازِ من رسید بگوش
میرے ایک مخلص دوست کے کان میں شاید میری آواز پہنچ گئی۔