Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
363 - 414
کے ذاتی اوصاف کے علم کا کمال حاصل تھا اس لئے جب آپ نے ان گھوڑوں کو اصیل سبک رو اور خوش رو پایا اور یہ ملاحظہ فرمایا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے تو آپ پرمسرت و انبساط کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ فرمانے لگے کہ ان گھوڑوں سے میری محبت ایسی مالی محبت میں شامل ہے جو پروردگار کے ذکر ہی کا ایک شعبہ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس غوروفکر کے درمیان گھوڑے اصطبل کو روانہ ہو گئے۔ چنانچہ جب آپ نے نظر اٹھائی تو وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے تھے۔ تو آپ نے حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ۔

جب وہ گھوڑے واپس لائے گئے تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جوش محبت میں ان گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا اور تھپتھپانا شروع کردیا۔ کیونکہ یہ گھوڑے جہاد کا سامان تھے اس لئے آپ ان کی عزت و توقیر کرتے ہوئے ایک ماہر فن کی طرح سے ان گھوڑوں کو مانوس کرنے لگے اور اظہارِ محبت فرمانے لگے۔ قرآن مجید نے اس واقعہ کو حسب ِ ذیل عبارت میں بیان فرمایا ہے:
وَ وَہَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیۡمٰنَ ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ ؕ اِنَّہٗۤ اَوَّابٌ ﴿ؕ30﴾اِذْ عُرِضَ عَلَیۡہِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُ ﴿ۙ31﴾فَقَالَ اِنِّیۡۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیۡرِ عَنۡ ذِکْرِ رَبِّیۡ ۚ حَتّٰی تَوَارَتْ بِالْحِجَابِ ﴿32﴾ٝرُدُّوۡہَا عَلَیَّ ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢابِالسُّوۡقِ وَالْاَعْنَاقِ ﴿33﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور ہم نے داؤد کو سلیمان عطا فرمایا کیا اچھا بندہ بیشک وہ بہت رجوع لانے والا جب کہ اس پر پیش کئے گئے تیسرے پہر کو کہ رُوکئے تو تین پاؤں پر کھڑے ہوں چوتھے سم کا کنارہ زمین پر لگائے ہوئے اور چلایئے تو ہوا ہو جائیں تو سلیمان نے کہا مجھے ان گھوڑوں کی محبت پسند آئی ہے اپنے رب کی یاد کے لئے پھر انہیں چلانے کا حکم دیا یہاں تک کہ نگاہ سے پردے میں چھپ گئے پھر حکم دیا کہ انہیں میرے پاس واپس لاؤ تو ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔(پ23،صۤ:30۔33)
Flag Counter