کے ذاتی اوصاف کے علم کا کمال حاصل تھا اس لئے جب آپ نے ان گھوڑوں کو اصیل سبک رو اور خوش رو پایا اور یہ ملاحظہ فرمایا کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے تو آپ پرمسرت و انبساط کی کیفیت طاری ہو گئی اور آپ فرمانے لگے کہ ان گھوڑوں سے میری محبت ایسی مالی محبت میں شامل ہے جو پروردگار کے ذکر ہی کا ایک شعبہ ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس غوروفکر کے درمیان گھوڑے اصطبل کو روانہ ہو گئے۔ چنانچہ جب آپ نے نظر اٹھائی تو وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے تھے۔ تو آپ نے حکم دیا کہ ان گھوڑوں کو واپس لاؤ۔
جب وہ گھوڑے واپس لائے گئے تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جوش محبت میں ان گھوڑوں کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنا اور تھپتھپانا شروع کردیا۔ کیونکہ یہ گھوڑے جہاد کا سامان تھے اس لئے آپ ان کی عزت و توقیر کرتے ہوئے ایک ماہر فن کی طرح سے ان گھوڑوں کو مانوس کرنے لگے اور اظہارِ محبت فرمانے لگے۔ قرآن مجید نے اس واقعہ کو حسب ِ ذیل عبارت میں بیان فرمایا ہے: