Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
362 - 414
    اور نجار کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر یہ انعام فرمایا کہ زمین کے جن حصوں میں آتشی مادوں کی وجہ سے تانبا پانی کی طرح پگھل کر بہہ رہا تھا ان چشموں کو حضرت سلیمان علیہ السلام پر آشکارا فرمایا۔ آپ سے پہلے کوئی شخص بھی زمین کے اندر دھات کے چشموں سے آگاہ نہ تھا۔ چنانچہ ابن کثیر بروایت قتادہ ناقل ہیں کہ پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے یمن میں تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام پر ظاہر فرما دیا۔
 (البدایہ والنہایہ، ج ۲،ص ۲۸)
قرآن مجید نے اس قسم کی کوئی تفصیل نہیں بیان فرمائی ہے کہ تانبے کے چشمے کس شکل میں حضرت سلیمان علیہ السلام کو ملے مگر قرآن کی جس آیت میں اس معجزہ کا ذکر ہے مذکورہ بالا دونوں توجیہات اس آیت کا مصداق بن سکتی ہیں۔ اور وہ آیت یہ ہے:
 وَ اَسَلْنَا لَہٗ عَیۡنَ الْقِطْرِ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور ہم نے اس کے لئے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہایا۔(پ22،سبا:12)

درسِ ہدایت:۔ہوا پر حکومت اور پگھلے ہوئے تانبے کے چشموں کا مل جانا یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا معجزہ ہے جو قرآن مجید سے ثابت ہے اس پر ایمان لانا ضروریاتِ دین میں سے ہے۔ بعض ملحدین جن کو معجزات کے انکار کی بیماری ہو گئی ہے وہ ان معجزات کے بارے میں عجیب عجیب مضحکہ خیز باتیں بکتے اور رکیک تاویلات کرتے رہتے ہیں۔ مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان ملحدوں کی باتوں پر کوئی توجہ نہ کریں اور معجزات پر یقین رکھتے ہوئے ایمان لائیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
           (۴۹)حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑے
ایک مرتبہ جہاد کی ایک مہم کے موقع پر شام کے وقت حضرت سلیمان علیہ السلام نے گھوڑوں کو اصطبل سے لانے کا حکم دیا۔ جب وہ پیش کئے گئے تو چونکہ آپ کو گھوڑوں کی نسلوں اور ان
Flag Counter