فَسَخَّرْنَا لَہُ الرِّیۡحَ تَجْرِیۡ بِاَمْرِہٖ رُخَآءً حَیۡثُ اَصَابَ ﴿ۙ36﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہم نے ہوا اس کے بس میں کردی کہ اس کے حکم سے نرم نرم چلتی جہاں وہ چاہتا۔(پ23،صۤ:36)
حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ عظیم الشان عمارتوں اور پرشوکت قلعوں کی تعمیر کے بہت شائق تھے اس لئے ضرورت تھی کہ گارے اور چونے کے بجائے پگھلی ہوئی دھات گارے کی جگہ استعمال کی جائے لیکن اس قدر کثیر مقدار میں یہ کیسے میسر آئے یہ سوال تھا جس کا حل حضرت سلیمان علیہ السلام چاہتے تھے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی اس مشکل کو اس طرح حل کردیا کہ ان کو پگھلے ہوئے تانبے کے چشمے عطا فرمائے۔
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حسب ِ ضرورت حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے تانبے کو پگھلا دیتا تھا اور یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے لئے ایک خاص نشان اور ان کا معجزہ تھا آپ سے پہلے کوئی شخص دھات کو پگھلانا نہیں جانتا تھا۔
(تذکرۃ الانبیاء،ص۳۷۷،پ۲۲، سبا :۱۲)