درسِ ہدایت:۔ابلیس نے سجدہ آدم علیہ السلام کے بارے میں خدا کا حکم ماننے سے انکار کیا تو وہ راندہ درگاہِ الٰہی ہو کر دونوں جہاں میں مردود ہو گیا۔ مگر آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں نے امانت کو اٹھانے کے بارے میں حکم ِ الٰہی ماننے سے انکار کیا تو وہ بالکل معتوب نہیں ہوئے اس کی کیا وجہ ہے؟ اور اس کا راز کیا ہے؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ابلیس کا انکار بطور ِ استکبار (تکبر)تھا اور آسمانوں وغیرہ کا انکار بطور ِ استصغار (تواضع)تھا۔ یعنی ابلیس نے اپنے کو بڑا سمجھ کر سجدہ آدم علیہ السلام سے انکار کیا تھا اور ظاہر ہے کہ تکبر وہ گناہ ِ عظیم ہے جو اللہ تعالیٰ کو بہت ناپسند ہے اور تواضع وہ پیاری ادا ہے جو خداوند قدوس کو بے حد محبوب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابلیس انکار کر کے عذابِ دارین کا حق دار بن گیا اور آسمان و زمین وغیرہ انکار کر کے موردِ عتاب بھی نہیں ہوئے بلکہ خدا کے رحم و کرم کے مستحق ہو گئے۔
اللہ اکبر! کہاں استکبار؟ اور کہاں استصغار؟ کہاں تکبر؟ اور کہاں تواضع؟ کہاں اپنے کو بڑا سمجھنا؟ اور کہاں اپنے کو چھوٹا سمجھنا۔ دونوں میں بہت عظیم فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو تکبر سے بچائے اور تواضع کا خوگر بنائے۔ آمین۔