Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
355 - 414
ترجمہ کنزالایمان:۔بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اور اس سے ڈر گئے اور آدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔ تاکہ اللہ عذاب دے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور مشرک مردوں اور مشرک عورتوں کو اور اللہ توبہ قبول فرمائے مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ22،الاحزاب:72۔73)

وہ امانت جس کو اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں پر پیش فرمایا تو ان سبھوں نے خوف ِ الٰہی سے ڈر کر اس امانت کو قبول کرنے سے انکار کردیا لیکن انسان نے امانت کے اس بوجھ کو اٹھا لیا۔ سوال یہ ہے کہ وہ امانت درحقیقت کیا چیز تھی؟ تو اس بارے میں مفسرین کے چند اقوال ہیں مگر حضرت علامہ احمد صاوی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ اس امانت کی سب سے بہترین تفسیر یہ ہے کہ وہ امانت شرعی پابندیوں کی ذمہ داری ہے۔

روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے شریعت کی پابندیوں کو آسمانوں اور زمینوں اور پہاڑوں کے روبرو پیش فرمایا تو ان تینوں نے عرض کیا کہ اے باری تعالیٰ! ہمیں اس بارگراں کے اٹھانے میں کیا حاصل ہو گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم ان (احکام شریعت)کی پابندی کرو گے تو تمہیں بہترین صلہ و انعام دیا جائے گا تو تینوں نے جواب میں عرض کیا کہ اے باری تعالیٰ! ہم تو بہرحال تیرے حکم کے فرمانبردار ہیں، باقی ثواب و عذاب سے ہمیں کوئی مطلب نہیں ہے لیکن خوف ِ الٰہی سے ڈر کر کانپتے ہوئے ان تینوں نے اس امانت کو قبول کرنے سے اپنی معذوری ظاہر کرتے ہوئے انکار کردیا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس امانت کو حضرت آدم علیہ السلام کے سامنے پیش فرمایا تو آپ نے بھی دریافت کیا کہ امانت کی ذمہ داری قبول کرلینے سے ہمیں کیا ملے گا؟ تو باری تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر تم اچھی طرح اس کی پابندی کرو گے تو تمہیں بڑے بڑے انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور اگر تم نے نافرمانی کی تو طرح طرح کے