Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
357 - 414
قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیۡ وَہَبْ لِیۡ مُلْکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیۡ ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الْوَہَّابُ ﴿35﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب مجھے بخش دے اور مجھے ایسی سلطنت عطا کر کہ میرے بعد کسی کو لائق نہ ہو بیشک تو ہی ہے بڑی دین والا۔(پ23،صۤ:35)

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا مقبول فرمالی اور آپ کو ایسی عجیب و غریب حکومت اور بادشاہی عطا فرمائی کہ نہ آپ سے پہلے کسی کو ملی، نہ آپ کے بعد کسی کو میسر ہوئی۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ارشاد فرمایا کہ گزشتہ رات ایک سرکش جن نے یہ کوشش کی کہ میری نماز میں خلل ڈالے تو خداوند تعالیٰ نے مجھ کو اس پر قابو دے دیا اور میں نے اس کو پکڑ لیا اس کے بعد میں نے ارادہ کیا کہ اس کو مسجد کے ستون سے باندھ دوں تاکہ تم سب دن میں اس کو دیکھ سکو۔ مگر اس وقت مجھ کو اپنے بھائی سلیمان (علیہ السلام)کی یہ دعا یاد آگئی کہ
وَہَبْ لِیۡ مُلْکًا لَّا یَنۡۢبَغِیۡ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیۡ... الخ
یہ یاد آتے ہی میں نے اس کو چھوڑ دیا۔
 (بخاری شریف، کتاب الانبیاء، باب قول اللہ عزوجل ووھبنا لداؤد سلیمن الخ، ج۱،ص ۴۸۷،۴۸۶۔ فتح الباری، کتاب الانبیاء، باب قول اللہ عزوجل ووھبنا الخ، رقم الحدیث ۳۴۲۳، ج۶، ص ۵۶۶)
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ خداوند تعالیٰ نے تمام انبیاء و رسل کے خصائص و معجزات و خصوصی امتیازات و کمالات مجھ میں جمع فرما دیئے ہیں اس لئے قوم جن کی تسخیر پر بھی مجھ کو قدرت حاصل ہے لیکن چونکہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس اختصاص کو اپنا خصوصی طغراء امتیاز قرار دیا ہے اس لئے میں نے اس سلسلہ کا مظاہرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ قرآن کریم کی حسب ِ ذیل آیتوں میں بھی حضرت سلیمان علیہ السلام کے اس معجزانہ اقتدار ِ حکومت کا تذکرہ ہے۔
Flag Counter