| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
تعالیٰ نے حضرت لقمان کو نیند کی حالت میں اچانک حکمت عطا فرما دی تھی۔ بہرحال نبوت کی طرح حکمت بھی ایک وہبی چیز ہے ، کوئی شخص اپنی جدوجہد اور کسب سے حکمت حاصل نہیں کرسکتا۔ جس طرح کہ بغیر خدا کے عطا کئے کوئی شخص اپنی کوششوں سے نبوت نہیں پا سکتا۔ یہ اور بات ہے کہ نبوت کا درجہ حکمت کے مرتبے سے بہت اعلیٰ اور بلند تر ہے۔
(تفسیر روح البیان، ج۷، ص ۷۴۔۷۵، (ملخصاً)پ۲۱، لقمان:۱۱)
حضرت لقمان نے اپنے فرزند کو جن کا نام ''انعم'' تھا۔ چند نصیحتیں فرمائی ہیں جن کا ذکر قرآن مجید کی سورہ لقمان میں ہے۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سی دوسری نصیحتیں آپ نے فرمائی ہیں جو تفاسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ مشہور ہے کہ آپ درزی کا پیشہ کرتے تھے اور بعض نے کہا کہ آپ بکریاں چراتے تھے۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ حکمت کی باتیں بیان کررہے تھے تو کسی نے کہا کہ کیا تم فلاں چرواہے نہیں ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ کیوں نہیں، میں یقینا وہی چرواہا ہوں تو اس نے کہا کہ آپ حکمت کے اس مرتبہ پر کس طرح فائز ہو گئے؟ تو آپ نے فرمایا کہ باتوں میں سچائی اور امانتوں کی ادائیگی اور بیکار باتوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے۔
(تفسیر صاوی، ج۵، ص۱۵۹۸، پ۲۱، لقمان:۱۲)
(۴۵)امانت کیا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں امانت کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحْمِلْنَہَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْہَا وَ حَمَلَہَا الْاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ72﴾لِّیُعَذِّبَ اللہُ الْمُنٰفِقِیۡنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِکِیۡنَ وَ الْمُشْرِکٰتِ وَ یَتُوۡبَ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیۡنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ ؕ وَکَانَ اللہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿٪73﴾