| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
(۶)اپنی موت کو ہمیشہ یاد کرتے رہا کرو۔ (۷)اپنے احسانوں کو بھلادو۔ (۸)دوسروں کے ظلم کو فراموش کردو۔ حضرت عکرمہ اور امام شعبی کے سوا جمہور علماء کا یہی قول ہے کہ آپ نبی نہیں تھے بلکہ آپ حکیم تھے اور بنی اسرائیل کے نہایت ہی بلند مرتبہ صاحب ایمان اور بہت ہی نامور مرد صالح تھے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے سینہ کو حکمتوں کا خزینہ بنا دیا تھا۔ قرآن مجید میں ہے:
وَلَقَدْ اٰتَیۡنَا لُقْمٰنَ الْحِکْمَۃَ اَنِ اشْکُرْ لِلہِ ؕ وَمَنۡ یَّشْکُرْ فَاِنَّمَا یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ ۚ وَمَنۡ کَفَرَ فَاِنَّ اللہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ ﴿12﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور بیشک ہم نے لقمان کو حکمت عطا فرمائی کہ اللہ کا شکر کر اور جو شکر کرے وہ اپنے بھلے کو شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرے تو بیشک اللہ بے پرواہ ہے سب خوبیوں سراہا۔ (پ21،لقمان:12) حضرت لقمان عمر بھر لوگوں کو نصیحتیں فرماتے رہے۔ تفسیر فتح الرحمن میں ہے کہ آپ کی قبر مقام ''صرفند'' میں ہے جو ''رملہ'' کے قریب ہے اور حضرت قتادہ کا قول ہے کہ آپ کی قبر ''رملہ'' میں مسجد اور بازار کے درمیان میں ہے اور اس جگہ ستر انبیاء علیہم السلام بھی مدفون ہیں۔ جن کو آپ کے بعد یہودیوں نے بیت المقدس سے نکال دیا تھا اور یہ لوگ بھوک پیاس سے تڑپ تڑپ کر وفات پا گئے تھے۔ آپ کی قبر پر ایک بلند نشان ہے اور لوگ اس قبر کی زیارت کے لئے دور دور سے جایا کرتے ہیں۔
(تفسیر روح البیان،ج۷، ص ۷۷، پ۲۱، لقمان:۱۲)
حکمت کیا ہے؟:۔''حکمت'' عقل و فہم کو کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ ''حکمت'' معرفت اور اصابت فی الامور کا نام ہے۔ اور بعض کے نزدیک حکمت ایک ایسی شے ہے کہ اللہ تعالیٰ جس کے دل میں یہ رکھ دیتا ہے اس کا دل روشن ہوجاتا ہے وغیرہ وغیرہ مختلف اقوال ہیں۔ اللہ