جب آپ شہر میں پہنچے تو یہ دیکھا کہ ایک شخص آپ کی قوم کا اسرائیلی اور ایک شخض فرعون کی قوم کا قبطی دونوں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے فریاد کر کے مدد مانگی۔ اس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قبطی کو ایک گھونسہ ماردیا جس سے اس کا دم نکل گیا۔ اس پر آپ کو بہت افسوس ہوا اور آپ خدا سے استغفار کرنے لگے۔ فرعون کی قوم کے لوگوں نے فرعون کو اطلاع دی کہ کسی اسرائیلی نے ہمارے ایک قبطی کو مار ڈالا ہے اس پر فرعون نے قاتل اور گواہوں کی تلاش کا حکم دیا۔
فرعونی چاروں طرف گشت کرتے پھرتے تھے۔ مگر کوئی سراغ نہیں ملتا تھا۔ رات بھر صبح تک حضرت موسیٰ علیہ السلام فکر مند رہے کہ خدا جانے اس قبطی کے مارے جانے کا کیا نتیجہ نکلے گا اور اس کی قوم کے لوگ کیا کریں گے؟ دوسرے روز جب موسیٰ علیہ السلام کو پھر ایسا اتفاق پیش آیا کہ وہی اسرائیلی جس نے ایک دن پہلے آپ سے مدد طلب کی تھی آج پھر ایک فرعونی سے لڑرہا تھا تو آپ نے اسرائیلی کو ڈانٹا کہ تو روز روز لوگوں سے لڑتا ہے اپنے کو بھی پریشانی میں ڈالتا ہے اور اپنے مددگاروں کو بھی فکر میں مبتلا کرتا ہے لیکن پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسرائیلی پر رحم آگیا اور آپ نے چاہا کہ اس کو فرعونی کے ظلم سے بچائیں تو اسرائیلی بولا کہ اے موسیٰ! کیا تم مجھے بھی ایسے ہی قتل کرنا چاہتے ہو جیسا کہ کل تم نے ایک آدمی کو قتل کردیا۔ کیا تم یہی چاہتے ہو کہ زمین میں سخت گیر بنو اور اصلاح چاہتے ہی نہیں۔ اتنے میں شہر کے کنارے سے ایک آدمی دوڑتا ہوا آیا اور یہ خبر دی کہ دربارِ فرعون کے قبطی آپس میں آپ کے قتل کا مشورہ کررہے ہیں۔ لہٰذا آپ شہر سے نکل جایئے میں آپ کا خیر خواہ ہوں تو آپ شہر سے باہر نکل گئے اور اس انتظار میں رہے کہ دیکھئے اب کیا ہوتا ہے؟ پھر آپ نے یہ دعا مانگی کہ اے میرے رب! مجھے ظالموں سے بچالے۔ یہ دعا مانگ کر آپ ہجرت کر کے مدین حضرت شعیب علیہ السلام کے پاس پہنچ