درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے علماء حق کو عبرت و نصیحت حاصل کرنی چاہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کرام علیہم السلام راہ ِ تبلیغ میں کیسے کیسے حادثات سے دو چار ہوئے مگر صبر و استقامت کا دامن ان حضرات کے ہاتھوں سے نہیں چھوٹا۔ یہاں تک کہ نصرتِ خداوندی نے ان حضرات کی ایسی دستگیری فرمائی کہ یہ حضرات کامیاب ہو کر رہے اور ان کے دشمنوں کو ہزیمت اور ہلاکت نصیب ہوئی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
کفار نے بتوں کو معبود بنا کر ان کی امداد و اعانت اور نصرت و نفع رسانی پر جو اعتماد اور بھروسا رکھا ہے، اللہ تعالیٰ نے کفار کی اس حماقت مـآبی کے اظہار اور ان کی خود فریبیوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے ایک عجیب مثال بیان فرمائی ہے جو بہت زیادہ عبرت خیز اور اعلیٰ درجے کی نصیحت آموز ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ:
مَثَلُ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مِنۡ دُوۡنِ اللہِ اَوْلِیَآءَ کَمَثَلِ الْعَنۡکَبُوۡتِ ۖۚ اِتَّخَذَتْ بَیۡتًا ؕ وَ اِنَّ اَوْہَنَ الْبُیُوۡتِ لَبَیۡتُ الْعَنۡکَبُوۡتِ ۘ لَوْ کَانُوۡا یَعْلَمُوۡنَ ﴿41﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ان کی مثال جنہوں نے اللہ کے سوا اور مالک بنالیے ہیں مکڑی کی طرح ہے اس نے جالے کا گھر بنایا اور بیشک سب گھروں میں کمزور گھر مکڑی کا گھر کیا اچھا ہوتا