ایک ضروری توضیح:۔واضح رہے کہ حضرت شعیب علیہ السلام دو قوموں کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے۔ ایک قوم ''مدین''دوسرے ''اصحاب ایکہ''ان دونوں قوموں نے آپ کو جھٹلادیا، اور اپنے طغیان و عصیان کا مظاہرہ اور اپنی سرکشی کا اظہار کرتے ہوئے ان دونوں قوموں نے آپ کے ساتھ بے ادبی اور بدزبانی کی اور دونوں قومیں عذابِ الٰہی سے ہلاک کردی گئیں۔ ''اصحاب مدین''پر تو یہ عذاب آیا کہ فَاَخَذَتْھُمُ الصَّیْحَۃُ یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام کی چیخ اور چنگھاڑ کی ہولناک آواز سے زمین دہل گئی اور لوگوں کے دل خوف ِ دہشت سے پھٹ گئے اور سب دم زدن میں موت کے گھاٹ اُتر گئے۔ اور ''اصحاب ایکہ''، ''عذاب یوم الظلۃ''سے ہلاک کردیئے گئے جس کا تفصیلی بیان ابھی ابھی آپ پڑھ چکے ہیں۔
(تفسیر صاوی،ج۴، ص ۱۴۷۳، پ۱۹، الشعرآء:۱۷۶)
(۴۲)حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ہجرت
حضرت موسیٰ علیہ السلام بچپن ہی سے فرعون کے محل میں پلے بڑھے مگر جب جوان ہو گئے تو فرعون اور اس کی قوم قبطیوں کے مظالم دیکھ کر بے زار ہو گئے اور فرعونیوں کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس پر فرعون اور اس کی قوم جو ''قبطی'' کہلاتے تھے، آپ کے دشمن بن گئے اور آپ فرعون کا محل بلکہ اس کا شہر چھوڑ کر اطراف میں چھپ کر رہنے لگے۔ ایک دن جب شہر والے دوپہر میں قیلولہ کررہے تھے تو آپ چپکے سے شہر میں داخل ہوگئے اور اس شہر کا نام ''منف'' تھا جو مصر کے حدود میں واقع ہے اور ''منف''دراصل ''مافہ'' تھا جو عربی میں ''منف'' ہو گیا اور بعض کا قول یہ ہے کہ یہ شہر ''عین الشمس'' تھا اور بعض مفسرین نے کہا کہ یہ شہر ''حابین'' تھا جو مصر سے دو کوس دور ہے۔
(تفسیرخازن،ج۳،ص۴۲۷،پ۲۰،القصص:۱۴)
یا ''ام خنان''یا