| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
بھاری پتھر سے بند کردیا، تاکہ کوئی کھول نہ سکے۔ مگر یہ سیاہ فام غلام روزانہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور ان کو فروخت کر کے کھانا خریدتا اور کنوئیں پر پہنچ کر پتھر اٹھاتا اور نبی کی خدمت میں کھانا پیش کرتا تھا۔ کچھ دنوں کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس غلام پر جنگل میں نیند طاری کردی اور یہ چودہ سال تک سوتا ہی رہ گیا۔ اس درمیان میں قوم کا دل بدل گیا اور ان لوگوں نے نبی کو کنوئیں میں سے نکال کر توبہ کرلی اور ایمان قبول کرلیا پھر چند دنوں کے بعد نبی کی وفات ہو گئی۔ چودہ سال کے بعد جب کالے غلام کی آنکھ کھلی تو اس نے سمجھا کہ میں چند گھنٹے سویا ہوں، جلدی جلدی لکڑیاں کاٹ کر وہ شہر میں پہنچا تو یہ دیکھ کر کہ شہر کے حالات بدلے ہوئے ہیں دریافت کیا تو سارا قصہ معلوم ہوا اور اسی غلام کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں سب سے پہلے ایک کالا غلام جائے گا۔
(تفسیر ابن کثیر، ج۶، ص ۱۰۱،پ۱۹، الفرقان: ۳۸)
قول ہفتم:مشہور مؤرخ علامہ مسعودی بیان کرتے ہیں کہ ''اصحاب الرس'' حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور یہ دو قبیلے تھے ''قیدما''(قیدماہ )اور دوسرا ''یامین'' یا ''رعویل''اور یہ دونوں قبیلے یمن میں آباد تھے۔ قول ہشتم:مصر کے ایک عالم فرج اللہ ذکی کردی کہتے ہیں کہ لفظ ''رس'' ، ''ارس'' کا مخفف ہے اور یہ شہر قفقاز کے علاقہ میں واقع ہے اس وادی میں اللہ تعالیٰ نے ایک نبی کو مبعوث فرمایا جن کا نام ابراہیم زردشت تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو دین حق کی دعوت دی مگر ان کی قوم نے سرکشی اور بغاوت اختیار کی چنانچہ یہ قوم عذابِ الٰہی سے ہلاک کردی گئی۔ ''اصحاب الرس'' کے بارے میں یہ آٹھ اقوال ہیں جن میں سے سبھی اقوال معرض بحث میں ہیں اور لوگوں نے ان اقوال و روایات پر کافی رد و قدح کیا ہے جن کی تفصیلات کو ذکر کر کے ہم اپنی مختصر کتاب کو طول دینا پسند نہیں کرتے۔