Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
344 - 414
سے بھی صدیوں پہلے ایک قوم کا نام ہے۔ یہ لوگ جس جگہ آباد تھے وہاں اللہ تعالیٰ نے ایک پیغمبر حضرت حنظلہ بن صفوان کو مبعوث فرمایا تھا اس سرکش قوم نے اپنے نبی کی بات نہیں مانی اور کسی طرح بھی حق کو قبول نہیں کیا بلکہ اپنے پیغمبر کو قتل کردیا۔ جس کی سزا میں پوری قوم عذابِ الٰہی سے ہلاک و برباد ہو گئی۔
 (تفسیر سورہ فرقان و تاریخ ابن کثیر، ج ۱)
قول سوم:ابن ابی حاتم کا قول ہے کہ آذر بائیجان کے قریب ایک کنواں تھا اس کنوئیں کے قریب جو قوم آباد تھی اس نے اپنے نبی کو کنوئیں میں ڈال کر زندہ دفن کردیا تھا۔ اس لئے ان لوگوں کو ''اصحاب الرس'' کہاگیا۔
        (تفسیر ابن کثیر، ج۶، ص ۱۰۱،پ۱۹،الفرقان: ۳۸)
قول چہارم:قتادہ کہتے ہیں کہ ''یمامہ''کے علاقہ میں ''فلج'' نامی ایک بستی تھی ''اصحاب الرس'' وہیں آباد تھے اور یہ وہی قوم ہے جس کو قرآن مجید میں ''اصحاب القریہ'' بھی کہا گیا ہے اور یہ مختلف نسبتوں سے پکارے جاتے ہیں۔

قول پنجم:ابوبکر عمر نقاش اور سہیلی کہتے ہیں کہ ''اصحاب الرس'' کی آبادی میں ایک بہت بڑا کنواں تھا جس کا پانی وہ لوگ پیتے تھے اور اس سے اپنے کھیتوں کی آبپاشی بھی کرتے تھے اور ان لوگوں نے گمراہ ہو کر اپنے پیغمبر کو قتل کردیا تھا، اس جرم میں عذاب ِ الٰہی اُتر پڑا اور یہ پوری قوم ہلاک و برباد ہو گئی۔

قول ششم:محمد بن کعب قرظی فرماتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ
اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ الْعَبْدُ الْاَسْوَدُ
یعنی جنت میں سب سے پہلے جو شخص داخل ہو گا وہ ایک کالا غلام ہو گا۔

اور یہ اس لئے کہ ایک بستی میں اللہ تعالیٰ نے اپنا ایک نبی بھیجا مگر ایک کالے غلام کے سوا کوئی ان پر ایمان نہیں لایا پھر اہل شہر نے اس نبی کو ایک کنوئیں میں ڈال کر کنوئیں کے منہ کو ایک
Flag Counter