| عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن |
خلاصہ کلام یہ ہے کہ ''اصحاب الرس'' کے بارے میں قرآن مجید سے اتنا تو پتا چلتا ہے کہ ان لوگوں کا وجود یقیناحضرت عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کے زمانہ کی کسی قوم کا تذکرہ ہے یا کسی قدیم العہد قوم کا ذکر ہے تو قرآن مجید نے اس کے بارے میں کچھ بھی بیان نہیں فرمایا ہے اور مذکورہ بالا تفسیری روایتوں سے اس کا قطعی فیصلہ ہونا بہت ہی مشکل ہے۔
واللہ تعالیٰ اعلم۔
(۴۱)اصحاب ایکہ کی ہلاکت
''ایکہ'' جھاڑی کو کہتے ہیں ان لوگوں کا شہر سرسبز جنگلوں اور ہرے بھرے درختوں کے درمیان تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا۔ آپ نے ''اصحاب ایکہ'' کے سامنے جو وعظ فرمایا وہ قرآن مجید میں اس طرح بیان کیا گیا ہے ، آپ نے فرمایاکہ
اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿177﴾ۚاِنِّیۡ لَکُمْ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿178﴾ۙفَاتَّقُوا اللہَ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ﴿179﴾ۚوَ مَاۤ اَسْـَٔلُکُمْ عَلَیۡہِ مِنْ اَجْرٍ ۚ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿180﴾ؕاَوْفُوا الْکَیۡلَ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا مِنَ الْمُخْسِرِیۡنَ ﴿181﴾ۚوَزِنُوۡا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیۡمِ ﴿182﴾ۚوَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَہُمْ وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیۡنَ ﴿183﴾ۚ وَ اتَّقُوا الَّذِیۡ خَلَقَکُمْ وَ الْجِبِلَّۃَ الْاَوَّلِیۡنَ ﴿184﴾ؕقَالُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مِنَ الْمُسَحَّرِیۡنَ ﴿185﴾ۙوَمَاۤ اَنۡتَ اِلَّا بَشَرٌ مِّثْلُنَا وَ اِنۡ نَّظُنُّکَ لَمِنَ الْکٰذِبِیۡنَ ﴿186﴾ۚفَاَسْقِطْ عَلَیۡنَا کِسَفًا مِّنَ السَّمَآءِ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿187﴾ؕقَالَ رَبِّیۡۤ اَعْلَمُ بِمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿188﴾فَکَذَّبُوۡہُ فَاَخَذَہُمْ عَذَابُ یَوْمِ الظُّلَّۃِ ؕ اِنَّہٗ کَانَ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیۡمٍ ﴿189﴾ (پ19،الشعراء:177 تا 189)
ترجمہ کنزالایمان:۔کیا ڈرتے نہیں بیشک میں تمہارے لئے اللہ کا امانت دار رسول ہوں تو اللہ سے ڈرو اور میرا حکم مانو اور میں اس پرکچھ تم سے اجرت نہیں مانگتا میرا اجر تو اسی پر ہے جو سارے جہان کا رب ہے ناپ پورا کرو اور گھٹانے والوں میں نہ ہو اور سیدھی ترازو سے تولو