کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوۡحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ12﴾وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوۡطٍ ﴿ۙ13﴾وَّ اَصْحَابُ الْاَیۡکَۃِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ ؕ کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیۡدِ ﴿14﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں اور بن والوں اور تبع کی قوم نے ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہو گیا۔(پ26،قۤ:12۔14)
''اصحاب الرس'' کون تھے؟ اور کہاں رہتے تھے؟ اس بارے میں مفسرین کے اقوال اس قدر مختلف ہیں کہ حقیقت حال بجائے منکشف ہونے کے اور زیادہ مستور ہو گئی ہے۔ بہرحال ہم مختصراً چند اقوال یہاں ذکر کر کے ایک اپنی بھی پسندیدہ بات تحریر کرتے ہیں۔
قول اول:علامہ ابن جریر کی رائے یہ ہے کہ ''رس'' کے معنی غار کے بھی آتے ہیں۔ اس لئے ''اصحاب الاخدود''(گڑھے والوں)ہی کو ''اصحاب الرس'' بھی کہتے ہیں۔
قول دوم:ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اس قول کو حق بتایا ہے کہ ''اصحاب الرس'' قوم عاد