Brailvi Books

عجائبُ القرآن مَع غَرائبُ القرآن
343 - 414
              (۴۰)اصحاب الرس کون ہیں؟
''رس'' لغت میں پرانے کنوئیں کے معنی میں آیا ہے۔ اس لئے ''اصحاب الرس'' کے معنی ہوئے ''کنوئیں والے''اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں ''اصحاب الرس'' کے نام سے ایک قوم کی سرکشی اور نافرمانی کی وجہ سے اس کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔ چنانچہ سورہ فرقان میں ارشاد فرمایا کہ:
وَّعَادًا وَّ ثَمُوۡدَا۠ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًۢا بَیۡنَ ذٰلِکَ کَثِیۡرًا ﴿38﴾وَکُلًّا ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَ ۫ وَکُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیۡرًا ﴿39﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں کو اور ان کے بیچ میں بہت سی سنگتیں اور ہم نے سب سے مثالیں بیان فرمائیں اور سب کو تباہ کر کے مٹا دیا۔(پ19،الفرقان:38۔39)

اور سورہ ق ۤ میں ہلاک شدہ قوموں کی فہرست بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا کہ:
کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوۡحٍ وَّ اَصْحٰبُ الرَّسِّ وَ ثَمُوۡدُ ﴿ۙ12﴾وَ عَادٌ وَّ فِرْعَوْنُ وَ اِخْوَانُ لُوۡطٍ ﴿ۙ13﴾وَّ اَصْحَابُ الْاَیۡکَۃِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ ؕ کُلٌّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِیۡدِ ﴿14﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ان سے پہلے جھٹلایا نوح کی قوم اور رس والوں اور ثمود اور عاد اور فرعون اور لوط کے ہم قوموں اور بن والوں اور تبع کی قوم نے ان میں ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا تو میرے عذاب کا وعدہ ثابت ہو گیا۔(پ26،قۤ:12۔14)

    ''اصحاب الرس'' کون تھے؟ اور کہاں رہتے تھے؟ اس بارے میں مفسرین کے اقوال اس قدر مختلف ہیں کہ حقیقت حال بجائے منکشف ہونے کے اور زیادہ مستور ہو گئی ہے۔ بہرحال ہم مختصراً چند اقوال یہاں ذکر کر کے ایک اپنی بھی پسندیدہ بات تحریر کرتے ہیں۔

قول اول:علامہ ابن جریر کی رائے یہ ہے کہ ''رس'' کے معنی غار کے بھی آتے ہیں۔ اس لئے ''اصحاب الاخدود''(گڑھے والوں)ہی کو ''اصحاب الرس'' بھی کہتے ہیں۔ 

قول دوم:ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اس قول کو حق بتایا ہے کہ ''اصحاب الرس'' قوم عاد
Flag Counter